National News

آبنائے ہرمز کے بحران سے خوفزدہ جنوبی کوریا ، ایران سے شروع کی اہم بات چیت

آبنائے ہرمز کے بحران سے خوفزدہ جنوبی کوریا ، ایران سے شروع کی اہم بات چیت

انٹرنیشنل ڈیسک: جنوبی کوریا نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناو کے درمیان ایران سمیت کئی ممالک کے ساتھ بات چیت تیز کر دی ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت معمول پر آ سکے۔ جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے ایک افسر نے کہا کہ حکومت مسلسل حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے شہریوں اور توانائی کی فراہمی کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے۔

  • آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم سمندری راستوں میں سے ایک ہے۔
  • یہاں سے دنیا کی20 فیصد تیل تجارت گزرتی ہے۔
  • یہ ایشیائی ممالک خاص طور پر جنوبی کوریا اور جاپان کے لیے زندگی کی اہم راہداری ہے۔
  • اس کے تمام بڑے راستے ایران کے کنٹرول والے آبی علاقے میں آتے ہیں۔
  • تناوکیوں بڑھا۔

حال ہی میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو تقریباً بند کر دیا۔ اس سے عالمی توانائی سپلائی پر بڑا خطرہ پیدا ہو گیا۔ کئی ممالک نے ایران کی اس کارروائی پر تنقید بھی کی۔ جنوبی کوریا نے بھی یورپی ممالک اور جاپان کے ساتھ مل کر ایران کے اس قدم کی مذمت کی ہے۔
ایران کا نرم اشارہ۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران بات چیت کے بعد جاپان جانے والے جہازوں کو راستہ دینے کے لیے تیار ہے۔ اس کے لیے ٹوکیو کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ اس دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے فوجی آپریشن کو آہستہ آہستہ کم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی طاقت کو کافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ساتھ ہی چین جاپان اور جنوبی کوریا سے اس خطے کی سلامتی میں تعاون مانگا۔



Comments


Scroll to Top