نئی دہلی : عام آدمی کے رکن پارلیمنٹ راگھو چڈھا عوام سے جڑے مسائل کو اٹھانے کے لئے جانے جاتے ہیں، چاہے پھر وہ ڈلیوری بوائے پر 15 منٹ میں ڈلیوری کے دباؤ سے جڑا ہو ، یا ایئر پورٹس میں اپنی فلائٹ کے انتظار میں بیٹھے مسافروں کو ملنے والی مہنگی کھانے پینے کی چیزیں۔
1. پہلا مدعا ، پری پیڈ ریچارج سے جڑا ہے ۔ ہندوستان کے پری پیڈ ریچارج صارفین ملک کے125 کروڑ موبائل صارفین میں سے تقریبا 90 فیصد ہیں۔ پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران راگھو چڈھا نے اس مدعے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ریچارج کی مدت ختم ہو جائے، تو آؤٹ گوئنگ ( باہر جانے والی ) کالز بندتو بند ہوتی ہی ہے ، ساتھ ہی اِن کمنگ( آنے والی ) کالز بھی بند کر دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب موبائل کا پری پیڈ ریچارج ختم ہوتا ہے تو آپ کی آواز بند کر دی جاتی ہے ۔ فون میرا ، سم کارڈ میرا، نمبر میرا ، توریچارج ختم ہونے کے بعد آؤٹ گوئنگ بند ہونا سمجھ میں آتا ہے ، لیکن اِن کمنگ بند ہونا سراسر بے ایمانی ہے ۔
راگھو چڈھا نے کہا کہ ہمارا موبائل نمبر ہماری ڈیجیٹل پہچان بن چکا ہے ۔ یوپی آئی پیمنٹ ، بینکنگ او ٹی پی ( OTP)، پین ، آدھار آتھنٹیفکیشن، انٹرویو کا کال ، ہسپتال کا کال، ماں باپ کا گاؤں سے کال ، تمام چیزیں اِن کمنگ کال اور اِن کمنگ میسیج سے آتی ہیں اور ان سب کو اس لئے بند کر دیا جاتا ہے کہ انسان کہ ایک ریچارج کرانا بھول گیا ۔ریجاچ ختم ہونے پر ہنگامی یا فوری حالات میںایک شخص مکمل طور پر رابطے سے محروم ہوجاتا ہے ۔
راگھو چڈھا نے کہا کہ جیسے آپ کا آدھار کارڈ اس لئے ایکسپائر نہیں ہوتا کہ آپ نے ڈیٹیل اپ ڈیٹ نہیں کی یا آپ کا بینک اکاؤنٹ اس لئے بند نہیں ہو جاتا کہ آپ نے ماہانہ ڈیپازٹ جمع نہیں کی، یا آپ کا ووٹر آئی ڈی اس لئے سسپینڈ نہیں ہوجاتا ہے کہ آپ ایک الیکشن میں ووٹ ڈالنے نہیں گئے۔ ٹھیک اسی طرح آپ کا موبائل نمبراس لئے سسپینڈ یا ڈی ایکٹویٹ نہیں ہونا چاہئے کہ آپ نے ایک ریچارج نہیں کرایا۔ انہوں نے کہا کہ میں پارلیمنٹ میں فری آؤٹ گوئنگ کی مانگ نہیں کر رہا ہوں ، فری ڈیٹا کی مانگ نہیں کر رہا ہوں، لیکن اِن کمنگ کال فیسلیٹی کی گارنٹی ہونی چاہئے ۔
- میری پہلی مانگ ہے کہ اِن کنمگ کالز اور میسیج کم از کم ایک سال تک جاری رہیں تاکہ ضروری رابطہ بند نہ ہو۔
- دوسری یہ کہ کسی موبائل نمبر کوآخری ریچارج کے بعد کم از کم تین سال تک ڈی ایکٹویٹ( غیر فعال ) نہ کیا جائے۔ایسا نہ ہو کہ اس نمبر کو غیر فعال کر کے کسی دوسرے انسان کو الاٹ کر دیا جائے ۔ اس کے لئے کم از کم 3 سال کا وقت ملنا چاہئے ۔
- تیسری یہ کہ ٹیلی کام آپریٹرز ' صرف اِن کمنگ کالز ' کے لئے ایک کم قیمت والا پلان متعارف کرائیں، جیسے کہ 10 میں روپے میں 180 دن کی اِن کمنگ کالز کی سہولت ۔یہ پلان ان صارفین کے لئے ہو جو صرف اِن کمنگ کالز کے لئے فون رکھتے ہیں یا چاہتے ہیں کہ ان کمنگ کالز کے لئے یا ایک دفعہ کے پاس ورڈ اور سرکاری خدمات کے لیے ان کا نمبر ایکٹو (فعال ) رہے۔
2. دوسرا مدعا ،جس کا پری پیڈ صارفین سامنا کرتے ہیں، وہ ہے ٹیلی کام آپریٹرز کا 28 دن کا ریجارج ۔ انہو ںنے کہ کہا سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں ' لیکن 28 دن کے ریجارج کی وجہ سے 13 بار ریجارج کرانا پڑتا ہے ۔ اگر کسی چیز کو مہینے سے جوڑا جاتا ہے کہ تو اسے اصل کیلنڈر مہینے کے 30-31 دن کے مطابق ہونا چاہیے۔ 28 دن کے چکر کی وجہ سے صارفین سال میں 13 ریچارجز کے لیے ادائیگی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
چڈھا نے کہا کہ دنیا میں ہر جگہ بل ادائیگی کیلنڈر مہینے کے حساب سے 30 یا31 کو ہوتی ہے ۔ جیسے ماہانہ سیلری، لینڈ لاٹ کا رینٹ، بینک کی ای ایم آئی ، بجلی ، پانی ، گیس کا بل ، یہ تمام چیزیں 30 یا 31دن کے مہینے کے حساب سے ہوتی ہے ، لیکن ٹیلی کام آپریٹرز آپ کو 28 دن کا ریجارج دیتے ہیں تاکہ آپ سے اضافی ایک مہینے کا ریچارج کرواسکیں۔