National News

منہ بند رکھنے کی مل رہی تھیں دھمکیاں ، پولیس نے نینسی کے قتل کو بتایاٹارگٹ کلنگ

منہ بند رکھنے کی مل رہی تھیں دھمکیاں ، پولیس نے نینسی کے قتل کو بتایاٹارگٹ کلنگ

انٹرنیشنل ڈیسک: کینیڈا کے وِنڈسر شہر میں رہنے والی 45 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر اور اینٹی-خالصتان ایکٹیوسٹ نینسی گریوال کو چھری مار کر قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ حملہ اچانک نہیں تھا بلکہ انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے نے بھارت اور دنیا بھر میں کافی توجہ حاصل کی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ منگل کی رات تقریباً 9:30 بجے لاسال کے ٹاڈ لین علاقے میں ایک گھر سے چھری بازی کی اطلاع ملی۔ موقع پر پہنچنے والی پولیس اور پیرامیڈیکس نے نینسی گریوال کو شدید گمبھیرحالت میں ہسپتال پہنچایا، لیکن علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔

Nancy Grewal, Indo-Canadian YouTuber critical of Khalistan movement,  stabbed to death in Ontario | Chandigarh News - The Indian Express
سوشل میڈیا پر پہلے ہی سکیورٹی کی فکر ظاہر کی تھی
نینسی گریوال سوشل میڈیا پر کافی سرگرم تھیں اور خالصتان تحریک کی کھل کر تنقید کرتی تھیں۔ انہوں نے کچھ وقت پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں کہا کہ انہیں اپنی سکیورٹی کو لے کر ڈر لگ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک شخص نے ان کے گھر کے دروازے پر پیٹرول ڈال کر آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ پیغام انگریزی میں اس لیے دے رہی ہیں تاکہ کینیڈا کے تمام لوگ سمجھ سکیں کہ وہ کس خطرے کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے ویڈیو میں کہا،میں کینیڈا کی شہری ہوں، لیکن ابھی مجھے اس ملک میں محفوظ محسوس نہیں ہو رہا۔ کسی نے مجھے خبردار کیا کہ اس معاملے پر بولنا بند کر دو۔
پولیس کو دی تھی شکایت
نینسی نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اس واقعے اور اس شخص کے خلاف دیگر شکایات وِنڈسر پولیس سروس کو دی تھیں۔ تاہم پولیس نے یہ تصدیق نہیں کی کہ اس معاملے میں پہلے کوئی کارروائی ہوئی تھی یا نہیں۔ اب قتل کی تحقیقات لاسال پولیس سروس کر رہی ہے۔ پولیس چیف مائیکل پیئرس نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے لگتا ہے کہ یہ سوچ سمجھ کر کیا گیا قتل تھا اور متاثرہ کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ فی الحال پولیس نے کسی مشتبہ کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔
خاندان میں غم کا ماحول
نینسی کی موت کے بعد خاندان میں گہرا غم ہے۔ ان کی بہن رینی پریت گریوال نے سوشل میڈیا پر لکھا، میں نے اپنی بہن، اپنی طاقت اور اپنی سب سے اچھی دوست کو کھو دیا۔ وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
خالصتان تحریک کی کھل کر مخالف تھیں نینسی
نینسی گریوال خالصتان علیحدگی پسند تحریک کی کھل کر تنقید کرتی تھیں۔ یہ تحریک 1947 سے ایک الگ سکھ ملک بنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ بھارتی حکومت اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ کینیڈا میں رہنے والے کچھ سکھ مہاجرین کے درمیان بھی اس تحریک کی حمایت پائی جاتی ہے۔ اسی مسئلے کو لے کر حالیہ برسوں میں بھارت اور کینیڈا کے تعلقات میں تناو بھی دیکھا گیا ہے۔نینسی گریوال سوشل میڈیا پر کئی بار خالصتان کے حامی رہنماوں جیسے گورپتونت سنگھ پنو اور امرت پال سنگھ کی تنقید کر چکی تھیں۔ انہوں نے کینیڈا کے سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے تھے۔
پنجاب کے لدھیانہ سے تھا تعلق
رپورٹ کے مطابق نینسی بنیادی طور پر پنجاب کے لدھیانہ ضلع کے نرنگوال گاوں کی رہائشی تھیں۔ وہ 2018 میں کینیڈا چلی گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے تقریباً 13 ہزار انسٹاگرام اور 9 ہزار یوٹیوب فالوورز تھے اور وہ اکثر پنجابی زبان میں ویڈیوز پوسٹ کرتی تھیں۔ان کی 70 سالہ والدہ شندربل کور اپنی بیٹی کی آخری رسومات کے لیے کینیڈا جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ پچھلے چند ماہ سے نینسی کو مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں اور دو ماہ پہلے ان کے گھر میں آگ لگانے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔ پولیس فی الحال اس قتل کے پیچھے وجہ اور ملزمان کی شناخت کرنے کے لیے تحقیقات میں مصروف ہے۔



Comments


Scroll to Top