بنگلورو:کرناٹک کے وزیر پریانک کھڑگے نے جمعہ کو وزیراعظم نریندر مودی پر الزام لگایا کہ وہ ایپسٹین فائلز اور اہم قومی و بین الاقوامی مسائل پر پارلیمنٹ میں بحث کرنے سے ڈرتے ہیں۔
اس تناظر میں مسٹر کھڑگے نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے سوال کیا، ”اسپیکر کے پاس ایسی کون سی خفیہ معلومات ہیں جو ہندوستان کے وزیر داخلہ کے پاس نہیں ہیں؟ دنیا بھر کی پارلیمنٹ میں ایپسٹین فائلز پر بحث ہو رہی ہے۔ وزیراعظم مودی پارلیمنٹ میں ایپسٹین فائلز پر بات کرنے سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ وہ ہندوستان اور چین کے درمیان ہونے والے واقعات پر بحث کرنے سے کیوں ڈرتے ہیں؟“
انہوں نے خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کے حوالے سے مسٹر برلا کے تبصروں پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا، ”آپ خواتین کی توہین کیوں کر رہے ہیں؟ پارلیمنٹ کی تاریخ سے مجھے کوئی ایک ایسی مثال دکھائیں جہاں ہندوستانی خواتین ارکان پارلیمنٹ نے کسی قسم کی زیادتی، تشدد یا نامناسب رویہ اختیار کیا ہو۔“
صوبائی وزیر کے یہ ریمارکس اوم برلا کے جمعرات کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس ”ٹھوس معلومات“ہیں کہ اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے وزیراعظم کی نشست کے قریب ”ناخوشگوار واقعہ“ پیش آسکتا ہے اور یہ کہ جاری احتجاج کے پیشِ نظر پارلیمانی وقار اور سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ صدر جمہوریہ کے خطاب کے جواب کے لیے شرکت نہ کریں۔
اس بیان پر شدید سیاسی ردِعمل سامنے آیا، جس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا سمیت دیگر رہنماوں نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے دعووں کو ”جھوٹا“ اور ”سیاسی محرکات پر مبنی“ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ پرینکا گاندھی نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی میں پارلیمنٹ میں آنے کی ہمت نہیں ہے اور وہ ”اسپیکر کے پیچھے“چھپ رہے ہیں۔