اسلام آباد: پاکستان کا شہر لاہور دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر قرار دیا گیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں قائم فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے ادارے آئی کیو اے (IQAir ) کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 452 ریکارڈ کیا گیا ہے، جو نہایت خطرناک درجے میں آتا ہے۔ پاکستان کے معروف اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز لاہور دنیا کے سب سے آلودہ شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا۔ جبکہ کراچی 179 ایئر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ نویں نمبر پر رہا۔
پاکستان گزشتہ چند برسوں سے شدید فضائی آلودگی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ خاص طور پر سردیوں کے موسم میں لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں اسموگ ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات صنعتی دھواں، گاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودگی، فصلوں کی باقیات جلانا اور ہوا کی کم رفتار بتائی جا رہی ہیں۔ منگل کے روز آئی کیو ایئر نے پاکستان کے لیے فضائی معیار کا الرٹ جاری کیا تھا۔ اس وقت لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 501 تک پہنچ گیا تھا، جبکہ کراچی 178 ایئر کوالٹی انڈیکس کے ساتھ دنیا کے چھٹے سب سے آلودہ شہروں میں شامل تھا۔
الرٹ میں عوام کو ہدایت دی گئی کہ وہ باہر نکلنے سے گریز کریں، کھڑکیاں بند رکھیں، باہر جاتے وقت ماسک پہنیں اور گھروں کے اندر ہوا صاف کرنے والے آلات استعمال کریں۔ اسی دوران 17 جنوری کو پنجاب کے بیشتر علاقوں میں گھنا اسموگ چھایا رہا۔ پنجاب ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے مطابق اس دن صبح سے دوپہر تک پنجاب کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 200 ریکارڈ کیا گیا۔ کئی اضلاع میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین رہی۔
مظفر گڑھ ایئر کوالٹی انڈیکس 291۔
رحیم یار خان ایئر کوالٹی انڈیکس 279۔
لاہور ایئر کوالٹی انڈیکس 274۔
ان تمام شہروں کو بہت غیر صحت مند درجے میں رکھا گیا۔ اس کے علاوہ گجرات ایئر کوالٹی انڈیکس 214 اور خانیوال ایئر کوالٹی انڈیکس 204 میں بھی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک برقرار رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔