انٹرنیشنل ڈیسک: پاکستان کی معاشی حالت کے بارے میں ایک تشویشناک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک کا مجموعی قرض بڑھ کر تقریباً 80 کھرب روپے سے زیادہ ہو گیا ہے۔
گزشتہ ایک سال میں ہی قرض میں تقریباً 9 کھرب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان ہر دن تقریباً 26ارب روپے کا نیا قرض لے رہا ہے۔ اگر اسے مزید چھوٹے پیمانے پر دیکھیں تو ہر گھنٹے ایک ارب روپے سے زیادہ اور ہر منٹ تقریباً ایک کروڑ 80لاکھ روپے کا قرض بڑھ رہا ہے۔
صورتحال اتنی سنگین ہے کہ ملک کی معیشت جتنا پیدا کرتی ہے اس کا بہتر فیصد حصہ پہلے ہی قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔یعنی حکومت کے پاس ترقی اور عوامی خدمات کے لیے محدود وسائل بچتے ہیں۔
اس بڑھتے قرض کا بڑا حصہ سرکاری کمپنیوں کے خسارے اور دیگر اخراجات میں جا رہا ہے۔ بجلی کا شعبہ گیس کمپنیاں ریلوے اور قومی ہوائی کمپنی جیسی کئی سرکاری ادارے مسلسل خسارے میں چل رہے ہیں مگر ان میں کوئی بڑی اصلاح نہیں کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو آنے والے وقت میں تعلیم اور صحت جیسے ضروری شعبوں میں سرمایہ کاری مزید کم ہو جائے گی۔قرض ادا کرنے میں ہی حکومت کی آمدنی کا بڑا حصہ خرچ ہو سکتا ہے۔مجموعی طور پر پاکستان کی معیشت پر قرض کا دباؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے جس سے مستقبل میں مزید بڑے معاشی بحران کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔