انٹرنیشنل ڈیسک: نیپال میں ایک بار پھر بادشاہت کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ دارالحکومت کٹھمنڈو میں اتوار کو سینکڑوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور سابق بادشاہ گیانندرا شاہ کے حق میں زوردار نعرے لگائے۔ یہ ریلی مارچ میں متوقع پارلیمانی انتخابات سے پہلے منعقد کی گئی، جسے سیاسی طور پر انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ مظاہرہ دو ہزار آٹھ میں ختم ہونے والی بادشاہت کے بعد پہلا بڑا منظم طاقت مظاہرہ سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ستمبر میں جنریشن-زیڈ تحریک کے بعد ایک عبوری حکومت بنی اور ملک میں سیاسی عدم استحکام گہرا گیا۔
ریلی میں شامل لوگ نیپال کے بانی بادشاہ پرتوی ناریان شاہ کے مجسمے کے ارد گرد جمع ہوئے اور نعرے لگائے کہ “ہمیں ہمارا بادشاہ چاہیے، بادشاہت واپس لاو¿۔” مظاہرین نے کہا کہ “جنریشن-Z تحریک کے بعد جس راستے پر ملک جا رہا ہے، اس میں بادشاہت ہی واحد حل ہے۔ موجودہ حالات کو سنبھالنے کے لیے بادشاہ ضروری ہیں۔” اتوار کا دن پرتوی ناریان شاہ کی یومِ پیدائش بھی تھا۔ گزشتہ برسوں میں اسی دن ہونے والی ریلیاں پرتشدد ہو چکی ہیں۔ مارچ 2025 میں ہوئی ایک ریلی میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس بار ہنگامہ روک پولیس کی بھاری تعیناتی کے باعث مظاہرہ پرامن رہا۔
نیپال میں ستمبر میں ہونے والی نوجوان تحریکوں نے سابق حکومت کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ تحریک بدعنوانی، بے روزگاری، مواقع کی کمی اور خراب حکمرانی کے خلاف تھی۔ اس کے بعد ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم اور ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج سشیلا کارکی کی قیادت میں عبوری حکومت بنی۔ تاہم، کارکی حکومت پر بدعنوانی کے معاملات میں سستی اور فیصلے لینے میں تاخیر کے الزامات بھی لگ رہے ہیں، جس سے عدم اطمینان مزید بڑھ گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مارچ کے انتخابات سے پہلے بادشاہت بمقابلہ جمہوریت کی بحث مزید شدت اختیار کرے گی۔ سابق شاہی خاندان کو اب بھی نیپال کے بڑے حصے کی حمایت حاصل ہے۔ یہ معاملہ انتخابی سیاست کو مکمل طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ نیپال ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں مستقبل کے حکومتی نظام کے بارے میں ملک کے اندر سنجیدہ غور و فکر شروع ہو چکا ہے۔