انٹرنیشنل ڈیسک: ہندوستان کی راہ پر چلتے ہوئے، نیپال کی نئی حکومت نے بڑھتی مہنگائی سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر بڑا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے پیٹرول، ڈیزل اور کیروسین پر لگنے والے کسٹم ڈیوٹی اور انفراسٹرکچر ٹیکس میں پچاس فیصد تک کی چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ کابینہ کی میٹنگ میں لیا گیا، جس کی معلومات وزیر پرتبھا راول نے دی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس سے عام لوگوں پر پڑنے والا معاشی بوجھ کم ہوگا۔ یہ اقدام ایسے وقت پر کیاگیا ہے جب ہندوستان نے بھی حال ہی میں پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی کم کر کے عوام کو ریلیف دیا تھا۔ اب نیپال نے بھی اسی راستے پر چلتے ہوئے ایندھن کو سستا کرنے کی کوشش کی ہے۔
نیپال میں فی الحال پیٹرول پر تقریباً 25.23 نیپالی روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 12.02 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی لگتی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں پر 10 روپے فی لیٹر انفراسٹرکچر ٹیکس بھی لیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ وی اے ٹی، روڈ مینٹیننس ٹیکس اور دیگر فیسیں بھی لاگو ہوتی ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب ہرمز خلیج میں تناؤ کے باعث عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اس راستے سے دنیا کا تقریبا بیس فیصد تیل گزرتا ہے، اس لیے یہاں بحران کا اثر براہِ راست بین الاقوامی مارکیٹ پر پڑا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھ گئی ہے، جس سے روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر بھی اثر پڑا ہے۔ ایشیائی ممالک پر اس کا اثر زیادہ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ وہ خلیج کے ممالک سے تیل درآمد کرنے پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم، نیپال براہِ راست خلیج کے ممالک سے تیل نہیں خریدتا، لیکن وہ مکمل طور پر ہندوستان پر منحصر ہے۔ ہندوستان بھی اس وقت ایندھن کی درآمد میں دباؤ برداشت کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے ہندوستان نے حال ہی میں پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی تھی۔ پچھلے مالی سال میں نیپال نے تقریبا 288 ارب نیپالی روپے کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جو ملک کی سب سے بڑی درآمد ہے۔