انٹرنیشنل ڈیسک: ناسا اپنے بڑے چاند راکٹ کو خلابازوں کے سوار ہونے سے پہلے مرمت کے لیے اس ہفتے دوبارہ ہینگر میں واپس لے جائے گا۔ خلائی ایجنسی کے مطابق کم از کم اپریل تک پرواز ملتوی رہے گی۔ موسم سازگار رہنے کی صورت میں منگل کو کینیڈی اسپیس سینٹر کے احاطے میں راکٹ کو واپس لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ناسا نے جمعرات کو خطرناک ہائیڈروجن ایندھن کے رسا ؤ کو بند کرنے کے لیے دوبارہ جانچ کی تھی۔ اسی دوران راکٹ کے ہیلیم نظام میں خرابی پیدا ہو گئی جس کے باعث نصف صدی سے زیادہ عرصے بعد خلا بازوں کا پہلا چاند مشن مزید مؤخر ہو گیا۔
انجینئروں نے ہائیڈروجن کے رساؤ پر قابو پا لیا تھا اور لانچ کے لیے چھ مارچ کی تاریخ مقرر کی تھی۔ پرواز میں ایک ماہ کی تاخیر پہلے ہی ہو چکی ہے۔ اچانک ہیلیم نظام میں رکاوٹ پیدا ہو گئی جس سے راکٹ کے بالائی مرحلے تک ہیلیم کی فراہمی متاثر ہوئی۔ انجنوں کو صاف کرنے اور ایندھن کے ٹینکوں میں دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ہیلیم ضروری ہوتی ہے۔ ناسا نے ایک بیان میں کہا کہ مسئلے کی وجہ معلوم کرنے اور اسے درست کرنے کے لیے راکٹ کو کینیڈی کی وہیکل اسمبلی بلڈنگ میں واپس لے جانا ضروری ہے۔
ایجنسی نے کہا کہ اپریل میں لانچ کی کوشش کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں تاہم یہ مرمت کی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔ آرٹیمس دوم مشن کے لیے منتخب کیے گئے تین امریکی اور ایک کینیڈین خلانورد اس وقت ہیوسٹن میں موجود ہیں اور خلائی سفر کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ 1968 سے 1972 کے درمیان 24 خلانوردوں کو چاند تک بھیجنے والے ناسا کے اپولو پروگرام کے بعد چاند کی جانب پرواز کرنے والے پہلے انسان ہوں گے۔