National News

امریکہ کا تبت کے مسئلے پر نیا قدم، چین کا سخت اعتراض، بولا- داخلی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں

امریکہ کا تبت کے مسئلے پر نیا قدم، چین کا سخت اعتراض، بولا- داخلی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں

بیجنگ: تبت کے مسئلے کو لے کر چین اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے Riley M. Barnes کو تبتی امور کے لیے امریکہ کا نیا خصوصی رابطہ کار مقرر کیا ہے۔ بارنس اس وقت امریکی محکمہ خارجہ میں جمہوریت، انسانی حقوق اور محنت کے امور کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ اعلان تبتی نئے سال لوسار کے موقع پر کیا گیا۔ روبیو نے دنیا بھر کے تبتیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ تبتیوں کے انسانی حقوق، مذہبی آزادی، ثقافتی شناخت اور زبان کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے اپنے پیغام میں “Losar Tashi Delek” کہہ کر تبتی برادری کے ساتھ حمایت کا اظہار کیا۔ چین کی وزارت خارجہ نے اس تقرری پر سخت اعتراض ظاہر کیا۔ بیجنگ نے کہا کہ نام نہاد “اسپیشل کوآرڈینیٹر” کا عہدہ چین کے داخلی معاملات میں مداخلت کا ذریعہ ہے اور چین نے کبھی بھی اس عہدے کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ چین نے دہرایا کہ تبت سے متعلق تمام معاملات اس کی خودمختاری کے دائرے میں آتے ہیں اور کسی بھی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسپیشل کوآرڈینیٹر کا کام کیا ہے۔
امریکہ میں یہ عہدہ Tibetan Policy Act کے تحت 2002 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ قانون ا±س وقت کی انتظامیہ کی طرف سے منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت وزیر خارجہ کے لیے تبتی امور کے لیے ایک خصوصی رابطہ کار مقرر کرنا لازمی ہے۔ اس عہدے کا مقصد چینی حکومت اور Dalai Lama یا ان کے نمائندوں کے درمیان بامعنی مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرنا، تبتیوں کے انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کا تحفظ کرنا، تبتی زبان اور ثقافت کا تحفظ کرنا، اور جنوبی ایشیا میں تبتی پناہ گزینوں کو انسانی امداد فراہم کرنا ہے۔
یہ عہدہ بیجنگ میں سفارتی نمائندہ نہیں ہوتا، بلکہ امریکی پالیسی کے رابطے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب چین اور امریکہ کے درمیان پہلے ہی کئی معاملات پر کشیدگی موجود ہے جیسے تائیوان، تجارت اور انسانی حقوق۔ تبت کا مسئلہ طویل عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان حساس رہا ہے۔ جہاں امریکہ انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی بات کرتا ہے، وہیں چین اسے اپنی خودمختاری کا معاملہ قرار دیتا ہے۔
        
 



Comments


Scroll to Top