انٹرنیشنل ڈیسک: مشرقِ وسطی میں جاری جنگ کا اثر اب ہندوستان کے پیکیجڈ واٹر ( بند بوتلوں میں فروخت ہونے والے پینے کے پانی کی ) منڈی پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں اور رسد کے نظام میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث بوتل بند پانی بنانے کی لاگت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ صنعت سے جڑے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا سیدھا اثر آنے والے دنوں میں صارفین کی جیب پر پڑ سکتا ہے اور پانی کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
پانچ ارب ڈالر کی ہے ہندوستان کی بوتل بند پانی کی منڈی
رپورٹوں کے مطابق ہندوستان کی بوتل بند پینے کے پانی کی منڈی تقریبا پانچ ارب ڈالر کی ہے اور اسے دنیا کی تیزی سے بڑھنے والی منڈیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں زیرِ زمین پانی کا معیار ایک بڑی مشکل بنا ہوا ہے۔ کئی تحقیقوں میں سامنے آیا ہے کہ ہندوستان میں تقریباً ستر فیصد زیرِ زمین پانی کسی نہ کسی شکل میں آلودہ ہے۔ اسی وجہ سے بڑی آبادی محفوظ پینے کے پانی کے لیے بوتل بند پانی پر انحصار کرتی ہے۔
خام مال کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ
گرمی کے موسم سے عین پہلے اس صنعت پر لاگت کا دباؤ بڑھنا تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ کئی بوتل بند پانی بنانے والی کمپنیوں نے اپنے تقسیم کاروں کو بھیجے گئے خطوط میں بتایا ہے کہ جنگ کے باعث خام مال کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں کچھ کمپنیوں نے تقسیم کے مرحلے پر قیمتیں بڑھانا بھی شروع کر دیا ہے جس کا اثر جلد ہی خردہ بازار میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
بوتل بنانے والا پولیمر ہوا مہنگا
صنعت سے جڑے اعداد و شمار کے مطابق پلاسٹک کی بوتل بنانے میں استعمال ہونے والے پولیمر کی قیمت میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ پولیمر خام تیل سے بنتا ہے اور جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا براہِ راست اثر اس پر پڑتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں بوتل بنانے والے مادے کی لاگت فی کلوگرام تقریبا پچاس فیصد تک بڑھ گئی ہے۔
پیکنگ کی لاگت بھی تیزی سے بڑھی
صرف بوتل ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ استعمال ہونے والی دوسری چیزوں کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔
- بوتلوں کے ڈھکن کی قیمت دوگنے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔
- لیبل اور پیکنگ کے سامان کی لاگت بڑھ گئی ہے۔
- ڈبے اور چپکانے والی ٹیپ بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔
- ان سب وجوہات کی وجہ سے کمپنیوں کے لیے پیداوار کی لاگت کافی بڑھ گئی ہے۔
گرمیوں میں صارفین پر بوجھ بڑھ سکتا ہے
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہتا ہے اور رسد کے نظام میں بہتری نہیں آتی تو آنے والے مہینوں میں بوتل بند پانی کی خردہ قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ شدید گرمی کے دوران جب بڑی تعداد میں لوگ بوتل بند پانی پر انحصار کرتے ہیں تب اس کی قیمت بڑھنا عام صارفین کے لیے اضافی مالی بوجھ بن سکتا ہے۔