انٹر نیشنل ڈیسک :پاکستانی معاشی بحران, مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل-امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان میں ہاہاکار مچا دیا ہے۔ خام تیل کی سپلائی رکنے اور عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کی شہباز حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ ملک چلانے کے لیے اب وزیروں کی تنخواہیں کاٹی جا رہی ہیں اور عوام کو گھروں میں محدود رہنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں آگ: 321 روپے پٹرول۔
6 مارچ کو پاکستان حکومت نے پٹرول کی قیمت میں ایک ساتھ 55 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا۔ اس تاریخی اضافے کے بعد اب وہاں قیمتیں کچھ اس طرح ہیں۔
پٹرول: 321.17 فی لٹر (پہلے 266.17 تھا)۔
ڈیزل: 335.86 فی لٹر۔
LPG (14.2 کلو): 1,046 فی سلنڈر۔
قیمتیں بڑھتے ہی کراچی اور لاہور جیسے شہروں کے پٹرول پمپوں پر میلوں لمبی قطاریں لگ گئیں اور کئی جگہ تیل کے لیے جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں۔
جنگ کا ڈبل اٹیک: کیوں ڈوب رہا ہے پاکستان؟
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر درآمدی تیل اور گیس پر منحصر ہے۔ ہرمز آبنائے (Strait of Hormuz) کے راستے سپلائی بند ہونے سے پاکستان کو اپنے محدود ایمرجنسی ذخائر استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سپلائی متاثر ہونے سے پاکستان کا ماہانہ تیل درآمدی بل 60 کروڑ ڈالر تک بڑھ سکتا ہے، جسے ادا کرنے کے لیے اس کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر موجود نہیں ہیں۔
ورک فرام ہوم: ایندھن بچانے کے لیے 50% سرکاری ملازمین کو گھر سے کام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
تنخواہوں میں کٹوتی: وزیروں اور کابینہ ارکان نے 2 ماہ تک تنخواہ اور الاو¿نس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں میں بھی 25% کمی کی گئی ہے۔
مہنگا ہوا سفر: ہوائی سفر کے ٹکٹوں میں 5,000 پاکستانی روپے تک بھاری اضافہ ہوا ہے۔
تعلیم پر اثر: بجلی اور ایندھن کی کمی کے باعث کئی علاقوں میں اسکول عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔
آگے کا راستہ کیا ہے؟
پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ملک کے پاس فی الحال 28 دن کا تیل ذخیرہ موجود ہے۔ تاہم اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ طویل ہوئی تو پاکستان کی معیشت تاش کے پتوں کی طرح بکھر سکتی ہے۔