National News

میکڈونلڈ کا برگر کھانے سے ایک شخص کی موت ، درجنوں لوگ ہسپتال میں داخل

میکڈونلڈ کا برگر کھانے سے ایک شخص کی موت ، درجنوں لوگ ہسپتال میں داخل

نیشنل ڈیسک: میکڈونلڈز کے برگر کھانے سے صحت کے بحران کا معاملہ سامنے آیا ہے جس میں ایک شخص کی موت ہو گئی اور درجنوں افراد ہسپتال میں داخل ہیں۔ یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے تصدیق کی ہے کہ یہ مسئلہ میکڈونلڈ کے ’کوارٹر پاو¿نڈر ہیمبرگر‘ سے منسلک ہے، جس میں ای کولائی سے آلودہ پایا گیا ہے۔
اس بیماری کے کیسز ستمبر کے آخر میں شروع ہوئے اور متاثرہ افراد 10 امریکی ریاستوں میں پائے گئے جن میں کولوراڈو اور نیبراسکا سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ اس صورتحال نے میکڈونلڈ کی ساکھ کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں کمپنی کے حصص میں 6% کمی واقع ہوئی۔ اس وقت 10 افراد ہسپتال میں داخل ہیں جن میں سے ایک بچے کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
سی ڈی سی نے اطلاع دی ہے کہ برگر کھانے کے بعد ایک بزرگ شخص انفیکشن سے مر گیا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ای کولائی سے متاثرہ افراد نے میکڈونلڈز کوارٹر پاونڈر ہیمبرگر کھایا تھا۔ اگرچہ انفیکشن کی صحیح وجہ کا تعین نہیں ہوسکا ہے، تاہم برگر میں استعمال ہونے والی کٹی پیاز اور بیف پیٹیز پر تحقیقات کی جارہی ہیں۔ ان اجزاءکو مزید تفتیش تک میکڈونلڈ کے ریستوراں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
McDonald's America کے صدر Joe Erlinger نے بھی تصدیق کی کہ کوارٹر پاو¿نڈر ہیمبرگر اور کٹی پیاز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ای کولائی انفیکشن کی عام علامات میں تیز بخار، اسہال، اور قے شامل ہیں، جو عام طور پر تین سے چار دن بعد ظاہر ہوتے ہیں۔ زیادہ تر متاثرہ افراد بغیر کسی سنگین علاج کے ٹھیک ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ معاملات میں ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top