انٹرنیشنل ڈیسک: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو حکمران ورکرز پارٹی کے اعلی ترین عہدے پر دوبارہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ سرکاری میڈیا نے پیر کو بتایا کہ نمائندوں نے ملک کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو مضبوط بنانے اور علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے کا سہرا کِم کے سر باندھا۔ گزشتہ جمعرات سے شروع ہونے والی پارٹی کانگریس میں کم آئندہ پانچ برسوں کے لیے اپنے اہم سیاسی اور فوجی اہداف کا خاکہ پیش کر سکتے ہیں۔ اشارے مل رہے ہیں کہ وہ جوہری پروگرام کو مزید تیز کرنے پر زور دیں گے۔ شمالی کوریا کے پاس پہلے ہی ایسی میزائلیں موجود ہیں جو ایشیا میں امریکہ کے اتحادیوں اور امریکی سرزمین تک کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کم روایتی فوجی قوت کو مضبوط بنانے اور اسے جوہری صلاحیتوں کے ساتھ مربوط کرنے کے نئے اہداف کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ چین کے ساتھ تجارت میں بہتری اور روس کو ہتھیاروں کی برآمد سے حاصل ہونے والے معاشی فائدے کے درمیان خود انحصاری کی مہم پر بھی دوبارہ زور دے سکتے ہیں۔ شمالی کوریا کی سرکاری کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے سی این اے نے بتایا کہ ہزاروں نمائندوں کی متفقہ خواہش سے کم کو پارٹی کا جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ سال 2016 سے ہر پانچ برس بعد ہونے والی اس کانگریس میں اعلی رہنما کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ کم جنوبی کوریا کے خلاف اپنے سخت مؤقف کو مزید باضابطہ شکل دے سکتے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ 2019 میں بات چیت ناکام ہونے کے بعد سے شمالی کوریا کا امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ سفارتی رابطہ تعطل کا شکار ہے۔ کم نے جنوبی کوریا کو 2024 میں مستقل دشمن قرار دے کر تعلقات کو مزید کشیدہ بنا دیا تھا۔