Latest News

سی آئی اے افسر کا سنسنی خیز انکشاف : امریکہ کی فوجی تیاری مکمل ، کچھ گھنٹوں میں ایران پر کبھی بھی ہو سکتا ہے حملہ

سی آئی اے افسر کا سنسنی خیز انکشاف : امریکہ کی فوجی تیاری مکمل ، کچھ گھنٹوں میں ایران پر کبھی بھی ہو سکتا ہے حملہ

واشنگٹن:  مشرق وسطی میں کشیدگی عروج پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے سخت الٹی میٹم دیا ہے۔ بھاری فوجی اجتماع اور سیاسی دباؤ کے باوجود تہران کی جانب سے جھکنے کے آثار نہ ملنے پر واشنگٹن میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف ( Steve Witkoff ) نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ صدر مایوس نہیں ہیں لیکن یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ بحری اور فوجی دباؤ کے باوجود ایران مذاکرات کی سمت میں ٹھوس پیش رفت کیوں نہیں کر رہا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایران ممکنہ طور پر ایک ہفتے کے اندر بم بنانے کے قابل سطح تک یورینیم افزودگی کی پوزیشن میں پہنچ سکتا ہے۔
سابق سی آئی اے افسر John Kiriakou نے ایک پوڈکاسٹ میں دعوی کیا کہ اگرچہ ٹرمپ نے دس دن کی مہلت دی ہے لیکن حملہ اس سے پہلے بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق وائٹ ہاؤس میں فوجی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اکثر مخالف کو الجھن میں رکھنے کے لیے وقت کی حد مقرر کرتے ہیں لیکن اچانک کارروائی کر دیتے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے اشارہ دیا کہ زیادہ افزودہ یورینیم کا کچھ حصہ برآمد کیا جا سکتا ہے اور افزودگی کی خالصیت کم کی جا سکتی ہے۔ علاقائی اتحاد کا قیام بھی ممکن ہے بشرطیکہ اس کے پرامن جوہری حق کو تسلیم کیا جائے اور پابندیوں میں ٹھوس نرمی دی جائے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امید ظاہر کی ہے کہ اس جمعرات  کو جنیوا میں ہونے والی ملاقات میں سفارتی حل نکل سکتا ہے۔ ایران میں طلبہ تنظیموں نے دوبارہ حکومت مخالف مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ پانچ یونیورسٹیوں کے طلبہ نے تہران اور دیگر شہروں میں احتجاج کیا۔ ان کا الزام ہے کہ جنوری میں ہونے والی تحریکوں کو کچلنے کے لیے ہزاروں افراد کو قتل کرایا گیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سفارتی مذاکرات ناکام رہے تو امریکہ محدود فضائی حملوں یا سائبر کارروائی جیسی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم ایسا قدم پورے مشرق وسطی کو بڑی  جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے جس سے عالمی تیل منڈی اور بین الاقوامی سلامتی پر سنگین اثرات پڑیں گے۔ اب دنیا کی نظریں جنیوا مذاکرات پر لگی ہیں کہ آیا کوئی حل نکلے گا یا جنگ کی آگ بھڑکے گی۔
 



Comments


Scroll to Top