Latest News

اسرائیل کے حملوں سے دہلا لبنان : فضائی حملے میں 31 ہلاک اور 149 زخمی، لوگوں کو فوری نقل مکانی کی ہدایت (ویڈیو)

اسرائیل کے حملوں سے دہلا لبنان : فضائی حملے میں 31 ہلاک اور 149 زخمی، لوگوں کو فوری نقل مکانی کی ہدایت (ویڈیو)

انٹر نیشنل ڈیسک: ایران، شام اور لبنان میں بیک وقت تین محاذوں پر جنگ لڑ رہی اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح اعلان کیا کہ لبنان بھر میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر درست نشانے والے حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔ دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات، جو حزب اللہ کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں، وہاں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ 
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق ابتدائی اعداد و شمار میں 31 افراد ہلاک اور149  زخمی ہوئے ہیں۔ کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں اور وسیع پیمانے پر خوف و ہراس پھیل گیا۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے جنوبی اور مشرقی لبنان کے تقریباً 50 قصبوں اور دیہات کے رہائشیوں کو فوری طور پر گھر خالی کر کے کم از کم ایک ہزار میٹر دور کھلے مقامات پر جانے کی  ہدایت کی ہے ۔ خبر رساں ادارے کے نمائندوں نے دیکھا کہ لوگ گاڑیوں میں گدے اور ضروری سامان باندھ کر نقل مکانی کر رہے تھے۔ اسے بڑے پیمانے پر بے دخلی قرار دیا گیا ہے۔

31 Syahid dalam Serangan Israel di Lebanon

Kementerian Kesehatan Lebanon mengumumkan 31 orang tewas dan 149 orang terluka dalam serangan udara Israel di Lebanon selatan dan pinggiran selatan Beirut. pic.twitter.com/pSGhSUu8EQ

— SW News - SOFT WAR NEWS (@SoftWarNews) March 2, 2026


حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ اور بغیر پائلٹ طیاروں سے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت کے جواب میں کی گئی ہے جو ہفتے کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں مارے گئے تھے۔ تنظیم نے کہا کہ یہ لبنان اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے بھی ضروری تھا۔
 تاہم اسرائیل نے کہا کہ داغے گئے گولے کھلے علاقوں میں گرے اور کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے راکٹ حملوں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور اسرائیل کو حملے جاری رکھنے کا بہانہ ملتا ہے۔ صدر جوزف عون نے بھی خبردار کیا کہ لبنان کو علاقائی تنازع کا میدان نہیں بننے دینا چاہیے۔
جنگ بندی کے بعد سب سے بڑا ٹکراؤ
نومبر 2024  کے جنگ بندی معاہدے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب حزب اللہ نے کھلے عام اسرائیل پر حملہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔2023  میں غزہ کی جنگ کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان ایک سال سے زیادہ عرصے تک جھڑپیں جاری رہیں۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے کہا کہ حزب اللہ نے مہم کا آغاز کیا ہے اور کسی بھی شدت کی پوری ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔ صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے اور پورے خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹکراؤ  بڑھا تو مشرق وسطی میں وسیع جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top