National News

ایران کی امریکہ کو کھلی دھمکی، اگر حملہ ہوا تو اسرائیل تک تمام فوجی اڈے کر دیں گےتباہ ، مظاہرین کو دی جائے گی پھانسی

ایران کی امریکہ کو کھلی دھمکی، اگر حملہ ہوا تو اسرائیل تک تمام فوجی اڈے کر دیں گےتباہ ، مظاہرین کو دی جائے گی پھانسی

انٹرنیشنل ڈیسک: ایران میں اسلامی نظامِ حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے ملک گیر احتجاجی مظاہرے تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئے ہیں۔ دارالحکومت تہران، دوسرے سب سے بڑے شہر مشہد اور کئی دیگر علاقوں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق اب تک کم از کم ایک سو سولہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور دو ہزار چھ سو سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایران میں انٹرنیٹ اور بین الاقوامی فون سروسز مکمل طور پر بند ہیں، جس کی وجہ سے اصل حالات کی معلومات باہر پہنچنا بے حد مشکل ہو گیا ہے۔ بیرونِ ملک خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اطلاعاتی بلیک آو¿ٹ کا فائدہ اٹھا کر ایرانی سکیورٹی فورسز بے رحمانہ کارروائی کر سکتی ہیں۔


اسی دوران ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ اور اسرائیل کو براہِ راست دھمکی دی۔ پارلیمنٹ میں امریکہ مردہ باد کے نعروں کے درمیان انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اسرائیل اور خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے ہمارے جائز اہداف ہوں گے۔ قالیباف نے یہ بھی کہا کہ ایران صرف جوابی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطرے کے اشارے ملتے ہی پہلے بھی حملہ کر سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی جنگ کا حتمی فیصلہ چھیاسی سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ہاتھ میں ہوگا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مظاہرین کی حمایت میں کہا ہے کہ امریکہ ایران کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ سے کھیل مت کھیلیے، وہ جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں۔
نیو یارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کو ایران پر حملے کے فوجی آپشنز پیش کیے گئے ہیں، تاہم ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ تہران کے پونک علاقے میں ہزاروں افراد سڑکوں پر موبائل کی روشنی جلا کر احتجاج کرتے دکھائی دیے، جبکہ مشہد میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ کوڑے دانوں میں آگ لگائی گئی اور سڑکوں کو بند کیا گیا۔ مشہد میں واقع امام رضا درگاہ کی وجہ سے وہاں کے مظاہرے حکومت کے لیے نہایت حساس مانے جا رہے ہیں۔ ایران کے اٹارنی جنرل نے خبردار کیا ہے کہ مظاہرین اور ان کی مدد کرنے والوں کو خدا کا دشمن سمجھا جائے گا۔ یہ الزام سزائے موت تک لے جا سکتا ہے۔ یہ احتجاجی مظاہرے اٹھائیس دسمبر کو اس وقت شروع ہوئے تھے جب ایرانی کرنسی ریال تاریخی گراوٹ کے ساتھ ایک ڈالر کے مقابلے چودہ لاکھ سے نیچے چلی گئی۔ بین الاقوامی پابندیوں اور جوہری پروگرام کے حوالے سے دباو¿ میں پہلے ہی گھری ہوئی ایرانی معیشت نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

                
 



Comments


Scroll to Top