انٹرنیشنل ڈیسک:ایران -امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اب ایک نہایت خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ اب لڑائی صرف میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں تک محدود نہیں رہی بلکہ تیل کی تنصیبات پر براہ راست حملوں کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے صاف کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت روکی گئی یا اس میں رکاوٹ ڈالی گئی تو ایران کے سب سے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کی تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے کہا ہے کہ اگر اس کے تیل کے ڈھانچے پر حملہ ہوا تو وہ امریکہ سے وابستہ تیل اور توانائی کی تنصیبات کو راکھ کا ڈھیر بنا دے گا۔
رائٹرز کے مطابق امریکہ نے 13 مارچ2026 کو خارگ جزیرے پر فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا لیکن ابھی تک وہاں کی تیل تنصیبات کو نہیں چھیڑا گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا لیکن ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ اگر سمندری راستوں کی آزاد اور محفوظ آمدورفت متاثر ہوئی تو تیل کے ڈھانچے پر حملہ کرنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔ خارگ جزیرہ ایران کے لیے صرف ایک جزیرہ نہیں بلکہ اس کی تیل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمد اسی جزیرے سے ہوتی ہے۔ وہاں پائپ لائن ذخیرہ گاہوں اور تیل بھرنے کے نظام کو نقصان پہنچنا عالمی بازار سے قریب20 لاکھ بیرل یومیہ تیل ہٹ جانے کے برابر بڑا جھٹکا ہو سکتا ہے۔
اس بحران کی جڑ آبنائے ہرمز ہے جس سے دنیا کے قریب 20 فیصد تیل کی ترسیل گزرتی ہے۔ رائٹرز نے بتایا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد اس سمندری راستے سے آمدورفت بری طرح کم ہو گئی ہے اور ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ گزرگاہ کے استعمال میں 97 فیصد تک کمی آئی۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی طرف سے آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھانے کا واضح ثبوت نہیں ملا لیکن سمندری خطرات اور کشیدگی نہایت بلند سطح پر برقرار ہیں۔ آپ کے دیے گئے مسودے میں 1200سے زیادہ ہلاکتیں32 لاکھ بے گھر افراد اور تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافے کا ذکر ہے۔ دستیاب تازہ رپورٹوں کے مطابق1200 لے کر تقریباً 2000تک ہلاکتوں کے مختلف اندازے سامنے آئے ہیں جبکہ لاکھوں لوگوں کے بے گھر ہونے کی اور عالمی تیل بازار میں تیز اضافے کی تصدیق مختلف رپورٹوں میں ہوئی ہے۔ اس لیے ان اعداد و شمار کو فی الحال جنگ کے دوران بدلتے ہوئے اعداد سمجھا جانا چاہیے نہ کہ حتمی تعداد۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ایران نے خطے میں امریکہ سے وابستہ توانائی کے ڈھانچوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دوبارہ دہرائی ہے۔ یہ صرف بیان نہیں بلکہ خلیجی ممالک خاص طور پر ان ملکوں کے لیے سنگین تنبیہ ہے جہاں امریکی فوج کی موجودگی ہے یا امریکی توانائی مفادات وابستہ ہیں۔ رائٹرز نے یہ بھی بتایا کہ ایران نے متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی ٹھکانوں کے بارے میں خبردار کیا ہے اور علاقائی کشیدگی اب صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہی۔ اس پورے معاملے کا سب سے بڑا اثر توانائی کے بازار جہاز رانی بیمہ لاگت اور عالمی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ خارگ جزیرے پر حملہ اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ان دونوں میں سے کوئی بھی قدم دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے یہ ٹکراو اب صرف فوجی جنگ نہیں بلکہ تیل تجارت اور عالمی رسد کے نظام کی جنگ بنتا جا رہا ہے۔