انٹر نیشنل ڈیسک : تھائی لینڈ کی گلیوں اور دفتروں کا منظر آج کل مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ جہاں پہلے اہلکار سوٹ اور ٹائی میں نظر آتے تھے، اب وہ ہاف پینٹ اور ٹی شرٹ پہن کر کام کر رہے ہیں۔ یہ کوئی فیشن ٹرینڈ نہیں بلکہ عالمی توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے تھائی حکومت کا ایک عملی ماسٹر پلان ہے۔
سوٹ-ٹائی کا دور کیوں بند ہوا؟
تھائی لینڈ اپنی بجلی پیدا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر قدرتی گیس اور خام تیل پر انحصار کرتا ہے۔ مشرقِ وسطی اور دیگر علاقوں میں جاری جنگ کے سبب ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ سپلائی چین کے ٹوٹنے سے ملک میں بجلی کا بحران گہرا ہوگیا ہے۔

ایئر کنڈیشنگ کے خرچ پر مخصوص کارروائی
تھائی لینڈ ایک گرم خطے کا ملک ہے جہاں دفتروں میں ایئر کنڈیشنر کے بغیر کام کرنا ناممکن ہے۔ سب سے زیادہ بجلی ایئر کنڈیشنر چلانے میں ہی صرف ہوتی ہے۔ حکومت نے بجلی بچانے کے لیے دو بڑے اقدامات کیے ہیں۔ ایئر کنڈیشنر کا درجہ حرارت 26-27 ڈگری کر دیا گیا ہے۔ کچھ وقت کے لیے ایئر کنڈیشنر کے استعمال کو کم سے کم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
گرمی کا حل: ہاف پینٹ کلچر
بغیر ایئر کنڈیشنر یا کم ٹھنڈک میں کوٹ پینٹ پہن کر کام کرنا ملازمین کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ پسینے اور گھبراہٹ سے بچنے کے لیے حکومت نے باضابطہ 'کیجوئل ڈریس کوڈ' یعنی ہاف پینٹ اور شرٹ کی اجازت دے دی ہے۔ ہلکا اور آرام دہ لباس جسم کو ٹھنڈا رکھتا ہے جس سے ملازمین بغیر ایئر کنڈیشنر کے بھی کام پر توجہ مرکوز کر پا رہے ہیں۔

کروڑوں یونٹ بجلی بچانے کا ہدف
تھائی حکومت کا ماننا ہے کہ اس چھوٹے سے تبدیلی سے پورے ملک میں کروڑوں یونٹ بجلی کی بچت ہو سکتی ہے۔ صرف 1 یا 2 ڈگری درجہ حرارت بڑھا کر اور ڈریس کوڈ میں نرمی دے کر قومی گرڈ پر پڑنے والے دبا ؤ کو کم کیا جا رہا ہے۔