انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی نئی حکومت کے صدر نے ان سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ بقائی نے بدھ کے روز کہا کہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ امریکہ میں ان کے مطابق ایران کی نئی حکومت کے صدر نے ان سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کھول دیا جاتا ہے تو وہ اس پر غور کریں گے ورنہ ایران پر بمباری جاری رہے گی۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں جنگ بندی کی درخواست کس طرف سے موصول ہوئی ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی شروع ہونے سے پہلے اور بعد میں مسعود پزشکیان ہی ایران کے صدر رہے ہیں۔
ٹرمپ اس سے پہلے بھی ایران کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے دعوے کرتے رہے ہیں تاہم ایران نے ان دعوو¿ں کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔ کشیدگی شروع ہونے کے بعد سے ایران سچا وعدہ چار کے تحت79 میزائل حملے کر چکا ہے جن میں اسرائیل کے علاوہ مغربی ایشیا میں امریکہ کے فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔