National News

پانچ ہزار اموات اور 26 ہزار گرفتاریاں، ایران میں مظاہرین پر قہر

پانچ ہزار اموات اور 26 ہزار گرفتاریاں، ایران میں مظاہرین پر قہر

دبئی:  ایران میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری ملک گیر احتجاج اب انتہائی خونی شکل اختیار کر چکا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے کی گئی سخت کارروائی میں اب تک کم از کم 5,002 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ملک میں 8 جنوری سے تاریخ کی سب سے بڑی انٹرنیٹ پابندی نافذ ہے، جس کے باعث اصل اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔
مرنے والوں میں 43 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں 4,716 مظاہرین، 203 سرکاری ملازمین اور 43 بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اب تک 26,800 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب ایران کی حکومت نے پہلی بار اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3,117 بتائی ہے، جن میں سے کئی کو حکومت نے دہشت گرد قرار دیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ جیسے حالات۔
ایران کے اندرونی حالات کے درمیان خلیجی خطے میں بڑا فوجی تناو پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مغربی ایشیا کی جانب اپنے کئی جنگی بیڑے روانہ کر دیے ہیں۔ ٹرمپ نے ان بیڑوں کو آرمادا کا نام دیا ہے، جس کا مطلب جنگی جہازوں کا ایک بہت بڑا قافلہ ہوتا ہے۔ امریکہ کی اس کارروائی نے ایران کے ساتھ جنگ کے خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے۔


 



Comments


Scroll to Top