انٹرنیشنل ڈیسک: سوشل میڈیا پر آئے دن کسی نہ کسی ایم ایم ایس یا ویڈیو لیک کے حوالے سے بحث و مباحثہ تیز ہو جاتا ہے۔ پچھلے ماہ ایک 19 منٹ کی ویڈیو کافی خبروں میں رہی تھی۔ اب اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک اور دعویٰ وائرل ہو رہا ہے، جس میں 3 منٹ 24 سیکنڈ کی ویڈیو کی بات کی جا رہی ہے۔
ان دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر "3 Minute 24 Second Video" نام کا کی ورڈ تیزی سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔ اس کی ورڈ کو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بنگلہ دیش کی سوشل میڈیا انفلوئنسر آروہی میم سے جڑا ایک MMS ویڈیو ہے۔ تاہم، اب تک اس دعوے کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
سوشل میڈیا پر آئے دن کسی نہ کسی MMS یا ویڈیو لیک کے حوالے سے بحث و مباحثہ تیز ہو جاتا ہے۔ پچھلے ماہ ایک 19 منٹ کی ویڈیو کافی خبروں میں رہی تھی۔ اب اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک اور دعویٰ وائرل ہو رہا ہے، جس میں 3 منٹ 24 سیکنڈ کی ویڈیو کی بات کی جا رہی ہے۔
https://www.instagram.com/p/DPlzh-mEtZM/?utm_source=ig_web_copy_link
کون ہیںانفلوئنسر آروہی میم ؟
آروہی میم بنگلہ دیش کی ایک مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز TikTok سے کیا تھا، بعد میں Instagram پر بھی ان کی مقبولیت تیزی سے بڑھ گئی۔ انسٹاگرام پر انہیں تقریباً 1.2 ملین (12 لاکھ) لوگ فالو کرتے ہیں۔ ان کے ویڈیوز صرف بنگلہ دیش ہی نہیں، بلکہ کئی دیگر ممالک میں بھی دیکھے جاتے ہیں۔
3 منٹ کی ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر جس 3 منٹ کی ویڈیو کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس کی اب تک کوئی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ تاہم یہ کی ورڈ پچھلے چند دنوں سے مسلسل ٹرینڈ کر رہا ہے۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ اس کی ورڈ سے جڑے کئی AI-جنریٹڈ جعلی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔ اصلی ویڈیو ہونے کا کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے۔
سائبر دھوکہ دہی کی نئی حکمت عملی
اس 3 منٹ کی ویڈیو کے نام پر سائبر جرائم بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ کئی سائبر دھوکہ باز ویڈیو دکھانے کے بہانے جعلی لنک بھیج کر لوگوں سے پیسے یا ان کی ذاتی معلومات چرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کئی معاملات میں لوگ ایسے لنکس پر کلک کرتے ہی فراڈ یا ہیکنگ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ایسے لنکس اور ویڈیوز سے رہیں محتاط
سائبر پولیس پہلے بھی واضح وارننگ دے چکی ہے کہ وائرل MMS یا ویڈیو کے نام پر آنے والے لنکس سے دور رہیں۔ اجنبی لنکس پر کلک نہ کریں۔ ایسے ویڈیوز ڈاو¿ن لوڈ یا شیئر کرنا قانونی جرم ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس طرح کی ویڈیو ڈاو¿ن لوڈ کرتا ہے یا آگے شیئر کرتا ہے، تو اس پر قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔