انٹرنیشنل ڈیسک: ایران میں مسلسل تیز ہوتے عوامی احتجاج اور پرتشدد جھڑپوں کے درمیان نیپال کی حکومت نے اپنے شہریوں کے لیے سخت ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے۔مہنگائی میں اضافے، معاشی بدحالی اور حکومت کے خلاف غصے کی وجہ سے ایران کے کئی شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورسز نے طاقت کا استعمال کیا ہے۔نیپال کی وزارت خارجہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران میں مقیم نیپالی شہری مقامی سکیورٹی اداروں کی ہدایات پر عمل کریں، گھروں کے اندر رہیں، احتیاط برتیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
وزارت نے یہ بھی اپیل کی ہے کہ جو نیپالی شہری ایران کا سفر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، وہ حالات معمول پر آنے تک اپنا سفر موخر کر دیں۔وزارت خارجہ نے ہنگامی حالات میں رابطے کے لیے خصوصی فون نمبرز اور ای میل بھی جاری کیے ہیں تاکہ بحران کے وقت نیپالی شہریوں کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔اسی دوران ایران میں حالات مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق مہنگائی اور حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین پر کئی علاقوں میں گولیاں چلائی گئی ہیں۔ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق اب تک 646 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 505 مظاہرین شامل ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں نو بچے بھی شامل بتائے گئے ہیں۔اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے 133 اہلکار اور کئی عام شہری بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
ایران کی حکومت نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔عالمی انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے اور صرف گھریلو نیٹ ورک نیشنل انفارمیشن نیٹ ورک کے ذریعے محدود خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔سائبر نگرانی کے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ایران میں 108 گھنٹوں سے زیادہ وقت سے انٹرنیٹ بلیک آو¿ٹ جاری ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم سائبر جنگ اور غیر ملکی سازشوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔دوسری جانب ایران نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی آپشن کے لیے تیار ہے۔ادھر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تشدد پر خوفزدہ ہونے کی بات کہی ہے۔ایران میں سولہویں دن بھی جاری یہ تحریک اب 187 شہروں تک پھیل چکی ہے، جس سے پورے خطے میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔