انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطیٰ کی جنگ اب صرف فوجی ٹکراو نہیں بلکہ حکمت عملی اور برداشت کی آزمائش بنتی جا رہی ہے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے دباو کے باوجود جس طرح خود کو سنبھالا ہے اس نے عالمی حکمت عملی کے مساوات بدلنے کے اشارے دیے ہیں۔ سابق بھارتی سفارت کار دلیپ سنہا نے کہا کہ ایران امریکہ اسرائیل تنازع طویل ہو سکتا ہے۔ دلیپ سنہا جو اقوام متحدہ میں بھارت کے سابق مستقل نمائندے رہ چکے ہیں ان کا ماننا ہے کہ ایران کے خلاف جاری یہ تنازع اب طویل کھنچنے والی جنگ میں بدل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنی فوجی تیاری سے سب کو حیران کر دیا ہے۔ ڈرون اور میزائلوں کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے ہتھیار محفوظ اور خفیہ ٹھکانوں پر رکھے ہیں جس سے دشمنوں کے لیے انہیں نشانہ بنانا آسان نہیں ہے۔ سنہا نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ایران کے کئی بڑے رہنما مارے گئے ہوں لیکن اس کی فیصلہ سازی کی صلاحیت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ اس کی وجہ غیر مرکزی نظام ہے جس میں فیصلے صرف اعلیٰ قیادت پر منحصر نہیں ہیں۔ سنہا نے آبنائے ہرمز کے بارے میں تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنگ راستہ بھارت کے لیے بے حد اہم ہے کیونکہ ملک کی بڑی تیل سپلائی یہیں سے گزرتی ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ بھارت کو متبادل راستوں اور توانائی کے ذرائع پر توجہ دینی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے تناو¿ پر بھی سنہا نے تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ہسپتال پر ہونے والے مبینہ حملے کو خوفناک بتایا اور کہا کہ اگر پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے بھارت کے حق کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے پاکستان پر دوہرا رویہ اپنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ افغانستان کی کمزور صورتحال کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے سنہا نے کہا کہ یہ ایک سیاسی ادارہ ہے جہاں بڑی طاقتوں کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال دنیا کی توجہ مشرق وسطیٰ اور یوکرین جنگ پر ہے اس لیے دوسرے مسائل نظر انداز ہو رہے ہیں۔