National News

اسرائیل کی ٹارگٹ کلنگ کارروائی:48گھنٹوں میں ایران کے تیسرے بڑے رہنما کی موت، انٹیلی جنس وزیر بھی کیا ہلاک

اسرائیل کی ٹارگٹ کلنگ کارروائی:48گھنٹوں میں ایران کے تیسرے بڑے رہنما کی موت، انٹیلی جنس وزیر بھی کیا ہلاک

انٹرنیشنل ڈیسک:مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اب انتہائی خطرناک موڑ اختیار کر چکی ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان ٹکراو اب براہ راست اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنا رہا ہے جس سے پورے خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کو مار دیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی ابھی تک تہران کی جانب سے کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی ہے۔


اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ صرف دو دنوں میں ایران کے تیسرے بڑے رہنما کی ہلاکت ہوگی جس نے پورے خطے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ اس سے پہلے اسرائیل نے علی لاریجانی اور غلام رضا سلیمانی کو فضائی حملے میں مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان دونوں کی موت کی تصدیق ایران کر چکا ہے اور ان کی آخری رسومات کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ان ہلاکتوں سے ایران کے نظام پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا کیونکہ ملک کسی ایک شخص پر منحصر نہیں ہے۔
رپورٹس کے مطابق خطیب کو ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا قریبی سمجھا جاتا تھا جس سے ان کی ہلاکت اگر تصدیق ہو جاتی ہے تو اور بھی بڑی مانی جائے گی۔ اسرائیل نے واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران کے دیگر سینئر رہنماوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع نے فوج کو مکمل اختیار دینے کی بات کہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل پہلے ہی حماس حزب اللہ اور دیگر تنظیموں کے رہنماوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ قیادت کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی ہے تاکہ دشمن کی کمان کو کمزور کیا جا سکے۔ لیکن اس سے جنگ مزید بھڑکنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں مسلسل بڑے رہنماوں کی ہلاکت سے یہ واضح ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو یہ تصادم مزید وسیع جنگ میں بدل سکتا ہے۔



Comments


Scroll to Top