National News

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی مزید خطرناک موڑ پر، ایران کا یو اے ای پرپھربڑا حملہ، آسٹریلوی فضائی اڈے کو بھی بنایا نشانہ

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی مزید خطرناک موڑ پر، ایران کا یو اے ای پرپھربڑا حملہ، آسٹریلوی فضائی اڈے کو بھی بنایا نشانہ

انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب مزید خطرناک موڑ لیتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کے حملوں کا دائرہ بڑھتے ہوئے اب متحدہ عرب امارات تک پہنچ گیا ہے جہاں ایک اہم فضائی اڈے پر حملہ ہوا۔ تاہم اطمینان کی بات یہ رہی کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن خطرہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے کیا گیا ایک حملہ متحدہ عرب امارات کے ایک اہم فضائی اڈے کے ایک حصے کو متاثر کر گیا۔ یہ فضائی اڈہ طویل عرصے سے آسٹریلوی دفاعی فورس کی موجودگی کا اہم مرکز رہا ہے۔


سرکاری بیان کے مطابق اس حملے میں کوئی آسٹریلوی فوجی زخمی نہیں ہوا اور تمام محفوظ ہیں۔ تاہم حملے کے باعث اڈے کے اندر موجود طبی سہولت اور رہائشی حصے کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔ انتھونی البانیز نے بتایا کہ بدھ کی صبح تقریباً نو بج کر پندرہ منٹ پر ایک ایرانی ہتھیار اڈے کے قریب سڑک پر گرا جس سے آگ لگ گئی۔ اس آگ کے باعث اردگرد کے فوجی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ حملے کی نوعیت ابھی واضح نہیں ہے کہ یہ ڈرون تھا یا میزائل اس کی جانچ جاری ہے۔ تاہم یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کی نشاندہی کر رہا ہے۔ یہ فضائی اڈہ صرف آسٹریلیا ہی نہیں بلکہ برطانیہ اور امریکہ کی افواج کے لیے بھی ایک اہم رسد اور نگرانی کا مرکز ہے جہاں ایک سو سے زائد آسٹریلوی فوجی تعینات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس جنگ کے دوران یہ دوسری بار ہے جب اس اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی ایران کی جانب سے ڈرون سے حملہ کیا گیا تھا لیکن اس وقت کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی تقریباً سترہ سوڈرونز اور میزائل حملے کیے گئے جن میں سے 90 فیصد کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ رچرڈ مارلز نے کہا کہ حکومت کی پہلی ترجیح اپنے فوجیوں کی حفاظت ہے اور حالات کے مطابق حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔
                
 



Comments


Scroll to Top