National News

بھارتی سفارت خانے نے جاری کی ‘ایمرجنسی’ ایڈوائزری ، کہا - 48 گھنٹے تک ایران میں کسی بھی حال میں باہر نہ نکلیں

بھارتی سفارت خانے نے جاری کی ‘ایمرجنسی’ ایڈوائزری ، کہا - 48 گھنٹے تک ایران میں کسی بھی حال میں باہر نہ نکلیں

نیشنل ڈیسک: ایران میں جاری شدید جنگ کے درمیان بھارتی طلبہ اور بھارتی شہریوں کے حوالے سے حکومت نے ‘ایمرجنسی’ ایڈوائزری جاری کی ہے۔ سفارت خانے نے ایران میں موجود تمام بھارتیوں سے کہا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں تک کسی بھی حال میں باہر نہ نکلیں۔ یہ صاف پیغام ہے کہ ایران میں حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ بھارتی سفارت خانے نے کہا کہ جو بھارتی شہری ایران میں جہاں بھی موجود ہیں، وہ اگلے 48 گھنٹوں تک اسی مقام پر موجود رہیں۔ غیر ضروری سفر یا نقل و حرکت سے مکمل طور پر بچیں۔ کیونکہ وہاں کے حالات خوفناک ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران ان کی طرف سے دی گئی منگل کی تازہ ترین مہلت تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سمیت کسی معاہدے پر راضی نہیں ہوتا، تو آج رات ایک پوری تہذیب کا خاتمہ ہو جائے گا۔ امریکی صدر کی یہ وارننگ ایسے وقت میں آئی ہے، جب ایران میں فضائی حملوں میں دو پلوں اور ایک ریلوے اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران ایرانی حکام نے نوجوانوں سے بجلی گھروں کی حفاظت کے لیے ان کے گرد انسانی زنجیر بنانے کی اپیل کی ہے۔ ٹرمپ پہلے بھی مہلت بڑھا چکے تھے، لیکن انہوں نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن میں منگل رات آٹھ بجے تک کی مہلت آخری ہے۔ اسی کے ساتھ دونوں طرف سے بیانات اپنی انتہا پر پہنچ گئے ہیں، جس سے ایرانی شہریوں کی تشویش بڑھ گئی ہے۔
امریکی صدر نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولتا، تو اس کے تمام بجلی گھر اور پل تباہ کر دیے جائیں گے۔ اس آبنائے کے راستے امن کے زمانے میں دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایران کے صدر نے کہا کہ ان سمیت 1.4 کروڑ لوگوں نے جنگ لڑنے کے لیے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ حالیہ فضائی حملے ٹرمپ کی پلوں پر حملے کی دھمکی سے جڑے ہوئے تھے یا نہیں۔ کم از کم دو اہداف ایران کے ریلوے نیٹ ورک سے متعلق تھے، جس پر اسرائیل پہلے حملے کی وارننگ دے چکا تھا۔ اسرائیل نے ایران کی معیشت کو جھٹکا دینے کے مقصد سے کیے جا رہے حملوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔
وہیں، ایران نے اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون داغے ہیں، جس کے باعث ایک اہم پل کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ ایران اگرچہ جدید امریکی اور اسرائیلی ہتھیاروں یا فضائی برتری کا مقابلہ نہیں کر سکتا، لیکن آبنائے پر اس کی گرفت عالمی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہے، جس سے ٹرمپ پر ملک کے اندر اور بیرون ملک دونوں جگہ سے اس تعطل سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کا دباو¿ بڑھ رہا ہے۔ سفارتی راستے سے بحران حل کرنے کے عمل میں شامل حکام نے کہا کہ بات چیت جاری ہے، لیکن ایران نے امریکہ کی تازہ ترین تجویز کو مسترد کر دیا ہے، اور یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ کے ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے وقت پر کوئی معاہدہ ہو پائے گا یا نہیں۔ دنیا کے رہنماو¿ں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ نے جس طرح کی تباہ کن کارروائی کی دھمکی دی ہے، وہ کارروائی جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتی ہے۔



Comments


Scroll to Top