انٹرنیشنل ڈیسک: دنیا بھر کے کرشن بھکتوں کی عقیدت کا مرکز، وِرِنداون میں واقع بانکے بہاری مندر ایک بار پھر تنازع میں گھِر گیا ہے۔ مندر انتظامیہ اور مقامی انتظامیہ کے درمیان ٹکرا ؤ اب کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ وِرِنداون میں واقع بانکے بہاری مندر اب صرف ایک مذہبی مقام نہیں رہا، بلکہ عقیدت، روایت اور اقتدار کی کشمکش کا میدان بنتا جا رہا ہے۔ گوسوامی سماج کے الزامات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ مندر کے اندر ہی ایک منظم سازش رچی جا رہی ہے۔ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا پہلے شبیہ خراب کر کے پھر روایت کو ختم کرنے کا راستہ تیار کیا جا رہا ہے۔

سازش کی بات کیوں اٹھ رہی ؟
تازہ واقعات میں گوسوامی سماج نے الزام لگایا ہے کہ مقامی انتظامیہ اور پولیس نے انہیں دوبارہ نظر بند کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے متھرا دورے سے پہلے یہ کارروائی کی گئی۔ جن گوسوامی خاندانوں کو نظر بند کیا گیا ہے ان کی ایک فہرست بھی سامنے آئی ہے۔ گوسوامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں کے باہر پولیس تعینات کر دی گئی تاکہ وہ باہر نہ نکل سکیں اور وزیر اعلیٰ کے سامنے اپنی بات نہ رکھ سکیں۔ گوسوامی سماج نے نہایت سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے مل کر مندر کے بارے میں ایک خطرناک منصوبہ تیار کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سازش کے تحت
مندر میں عام لباس میں شرپسند افراد بھیجے جائیں گے۔
- جان بوجھ کر جھگڑے اور ٹکراؤ کرائے جائیں گے۔
- مندر میں خدمت گزار گوسوامیوں اور ان کے خاندانوں کو اکسایا جائے گا۔
- پھر ان کی شبیہ کو ملک اور دنیا میں خراب کیا جائے گا۔
- تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ مندر کا نظام ان کے ہاتھ میں محفوظ نہیں ہے۔

سیوایت گوسوامی نشانے پر
سب سے بڑی اور چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ایک بار پھر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے متھرا دورے سے ٹھیک پہلے گوسوامی خاندانوں کو ان کے ہی گھروں میں روک دیا گیا۔ یعنی بلا وجہ انہیں نظر بند کر دیا گیا۔ ان میں سب سے زیادہ نشانے پر مندر کے اہم سیوایت اننت گوسوامی ہیں جنہیں جان بوجھ کر پھنسانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ کمیٹی کے بے معنی فیصلوں کے خلاف کھل کر بولتے ہیں۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے۔
7 مارچ کو بھی اسی طرح گوسوامی سماج کو نظر بند کیے جانے کے الزامات لگے تھے۔ یعنی یہ ایک بار کی کارروائی نہیں بلکہ مسلسل دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ 7 مارچ 2026 کو وزیر اعلیٰ کے دورے والے دن مندر میں کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ شرمناک بات یہ تھی کہ انتظامیہ اور پولیس کے اہلکاروں نے مندر کے اندر ہی اہم سیوایت اننت گوسوامی پر حملہ کر دیا اور ان کے کپڑے تک پھاڑ ڈالے تھے۔

گوسوامی سماج کا کہنا ہے
- گھروں کے باہر پولیس تعینات کر دی گئی۔
- باہر نکلنے پر غیر رسمی پابندی لگا دی گئی۔
- وزیر اعلیٰ سے ملنے اور اپنی بات رکھنے سے روک دیا گیا۔
اصل مسئلہ کیا ہے
بانکے بہاری مندر میں ہر سال لاکھوں عقیدت مند درشن کے لیے آتے ہیں۔ بھیڑ اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ کئی بار بھگدڑ جیسی حالت بن جاتی ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے حکومت ایک کاریڈورمنصوبہ لانا چاہتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت
- مندر کے آس پاس کے علاقے کو کشادہ کیا جائے گا۔
- آنے جانے کے راستے بہتر بنائے جائیں گے۔
- ہجوم پر قابو پانے کے لیے جدید انتظام کیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سب عقیدت مندوں کی حفاظت اور سہولت کے لیے ضروری ہے۔
گوسوامی سماج مخالفت کیوں کر رہا ہے
گوسوامی سماج اس منصوبے کی مخالفت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے نام پر مندر کے روایتی نظام کو ختم کیا جا رہا ہے۔ ان کے صدیوں پرانے حقوق میں مداخلت ہو رہی ہے۔ مندر کا اختیار آہستہ آہستہ حکومت کے ہاتھ میں جا سکتا ہے۔ گوسوامیوں کو خدشہ ہے کہ یہ صرف ترقی نہیں بلکہ قبضے کی شروعات ہے۔ اصل ٹکرا ؤ کی وجہ اختیار اور کنٹرول ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ مندر کا انتظام ایک نظام کے تحت چلے جبکہ گوسوامی چاہتے ہیں کہ سب کچھ روایتی طریقے سے ہی جاری رہے۔ اسی لیے ایک اعلی اختیاراتی کمیٹی بنائی گئی، مگر یہی کمیٹی اب تنازع کی جڑ بن گئی ہے۔ گوسوامی سماج کا الزام ہے کہ کمیٹی ان کے فیصلوں کو نظر انداز کر رہی ہے اور انتظامی دباؤ ڈال رہی ہے۔

یہ جال ہے- خفیہ انتباہ
گوسوامی سماج کے اندر سے ایک سخت پیغام دیا جا رہا ہے۔
- مندر میں آنے والے عقیدت مند خاص طور پر سیوایت گوسوامی کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں۔
- مندر کے اندر کوئی جھگڑا نہ کریں۔
- پولیس یا کسی خاص شخص کی باتوں میں نہ آئیں۔
- صاف لفظوں میں یہ ایک جال ہو سکتا ہے جس کے تحت کسی کو بھی پھنسایا جا سکتا ہے۔
معاملہ خطرناک کیوں بن ا دھماکہ خیز
- یہ تنازع اب تین بڑے سوال کھڑے کر رہا ہے۔
- کیا مندر کے اندر واقعی ماحول خراب کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
- کیا اس منصوبے کے لیے دبا بنایا جا رہا ہے۔
- کیا گوسوامی سماج کو جان بوجھ کر کمزور کیا جا رہا ہے۔