نیویارک: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ہندوستان اب ایران سے تیل خریدنے کے بجائے وینزویلا سے خام تیل درآمد کرے گا۔ ٹرمپ نے یہ بیان ہفتہ کے روز فلوریڈا کے پام بیچ جاتے وقت ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران دیا۔ یہ تبصرہ اس سوال کے جواب میں سامنے آیا جس میں چین کی جانب سے وینزویلا کو دیے گئے قرض کی ادائیگی تیل کی فراہمی کے ذریعے کیے جانے کے امکان پر بات ہو رہی تھی۔ ٹرمپ نے کہا، چین کا خیرمقدم ہے، وہ تیل کے معاملے میں بڑا معاہدہ کر سکتا ہے۔ ہندوستان بھی آ رہا ہے اور وہ ایران سے تیل خریدنے کے بجائے وینزویلا کا تیل خریدے گا۔ ہم نے یہ سودا پہلے ہی طے کر لیا ہے، کم از کم اس کا تصور تو طے ہو چکا ہے۔
“India to buy Venezuelan oil, not Iran’s”, says Trump, calls it part of an already-made deal#BusinessToday #VenezuelaOil #IndiaEnergy #DonaldTrump #OilDeal #GlobalOilMarket #USIndiaRelations #CrudeImports pic.twitter.com/gNkmpiYOIf
— Business Today (@business_today) February 1, 2026
تاہم نئی دہلی کی جانب سے ٹرمپ کے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان 2019 تک ایران سے تیل خریدنے والے اہم ممالک میں شامل تھا، لیکن امریکہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد ہندوستان نے وہاں سے تیل کی درآمد میں نمایاں کمی کر دی تھی۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ ایران اور وینزویلا دونوں پر سخت پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے اور بڑے توانائی درآمد کرنے والے ممالک پر ان ممالک سے تیل نہ خریدنے کا دباؤ ڈال رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان نے رعایتی نرخوں پر روسی خام تیل کی خرید میں قابل ذکر اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں روس ہندوستان کے سب سے بڑے تیل فراہم کرنے والوں میں شامل ہو گیا ہے۔
اسی پس منظر میں امریکہ نے بھارت پر پچاس فیصد تک محصول عائد کیا ہے، جس میں روسی تیل کی خرید سے متعلق پچیس فیصد محصول بھی شامل بتایا گیا ہے۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی رودریگز سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت، زراعت اور عوامی روابط سمیت کئی شعبوں میں بھارت اور وینزویلا کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ وزارت نے کہا کہ دونوں فریقوں نے گلوبل ساؤتھ سے متعلق علاقائی اور عالمی امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا اور باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر زور دیا۔