National News

انڈیا-امریکہ تجارت: ٹرمپ کی نئی ''ٹیرف سرجیکل سٹرائیک''، ایران سے دوستی بھارت کو 75 فیصد مہنگی پڑ سکتی ہے! کیا تجارت کی ٹوٹے گی کمر؟

انڈیا-امریکہ تجارت: ٹرمپ کی نئی ''ٹیرف سرجیکل سٹرائیک''، ایران سے دوستی بھارت کو 75 فیصد مہنگی پڑ سکتی ہے! کیا تجارت کی ٹوٹے گی کمر؟

 انڈیا-امریکہ تجارت: صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی 'ٹیرف ڈپلومیسی' سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں کے درمیان ٹرمپ نے ایران کی حکومت پر دباو ڈالنے کے لیے اس کے تجارتی شراکت داروں کو نشانہ بنایا ہے۔ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کے لیے امریکی مارکیٹ کے دروازے مہنگے ہو جائیں گے۔
بھارت پر کس طرح ہوگا دوہرا حملہ؟
بھارت کے لیے یہ خبر تشویشناک ہے کیونکہ امریکہ پہلے ہی روسی تیل اور دیگر مسائل کے سبب بھارتی اشیاءپر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کر چکا ہے۔
اگر ایران کے ساتھ تجارت کی وجہ سے 25 فیصد نیا ٹیرف لگتا ہے تو بھارتی برآمد کنندگان کو امریکہ میں مجموعی طور پر 75 فیصد تک ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس سے امریکی مارکیٹ میں بھارتی اشیاء کافی مہنگی ہو جائیں گی۔
بھارت-ایران تجارت کے اہم اعداد و شمار
مالی سال 2024-25 میں بھارت اور ایران کے درمیان کل تجارت تقریباً 1.68 ارب ڈالر (تقریباً 15,000 کروڑ روپے) رہی۔
·   بھارت کیا بیچتا ہے: چاول (باسمتی)، چائے، چینی، ادویات اور آرگینک کیمیکلز۔
·   بھارت کیا خریدتا ہے: خشک میوہ جات (پستا، کھجور)، آرگینک کیمیکلز اور معدنی ایندھن۔
·   ایران کو ہونے والی برآمدات میں آرگینک کیمیکلز کا حصہ سب سے زیادہ (تقریباً 512 ملین ڈالر) رہا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹکی نظریں
اس دوران بدھ (14 جنوری) کو امریکی سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ آنے والا ہے۔
عدالت یہ طے کرے گی کہ صدر ٹرمپ کے ذریعے اس طرح عالمی ٹیرف عائد کرنا آئینی ہے یا نہیں۔اگر فیصلہ ٹرمپ کے خلاف جاتا ہے تو بھارت سمیت چین، ترکی اور یو اے ای جیسے ممالک کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔



Comments


Scroll to Top