نیشنل ڈیسک : جدید دور میں جہاں شادیوں کے رواج بدل رہے ہیں وہاں ہندوستان کے ہمالیائی علاقوں میں ایک ایسی قدیم روایت آج بھی زندہ ہے جو ہمیں براہِ راست دواپر کے دور کی یاد دلاتی ہے۔ ہماچل پردیش اور اترکھنڈ کے کچھ دور دراز علاقوں میں کئی شوہروں والی شادی( پولی اینڈری )کی روایت آج بھی معاشرے کا حصہ ہے جس میں پریوار کے تمام بھائی مل کر ایک ہی لڑکی سے شادی کرتے ہیں۔
حالیہ واقعہ نے سب کو حیران کر دیا
حال ہی میں ہماچل پردیش کے سِرمور ضلع، ٹرانس-گیری علاقہ میں ایک ایسی ہی شادی چرچا کا مرکز بنی۔ یہاں ہٹی کمیونٹی کے دو سگے بھائیوں نے ایک ہی لڑکی کے ساتھ سات پھیرے لیے۔ روایتی رواجوں کے ساتھ کئی دن تک جاری اس شادی کی تقریب میں پورا گاؤں شریک ہوا۔ خاص بات یہ رہی کہ یہ شادی کسی دبا ؤمیں نہیں بلکہ دولہا اور دلہن کی باہمی رضامندی سے ہوئی۔ مقامی زبان میں اس انوکھی روایت کو جوڑی دار یا ججدا کہا جاتا ہے۔
یہ روایت کیوں کی جاتی ہے؟
70 اور 80 کی دہائی کے بعد ایسی شادیاں کم ہو گئی تھیں لیکن حالیہ کچھ مثالوں نے دوبارہ سب کا دھیان کھینچا ہے۔ ماہرین اور مقامی بزرگوں کے مطابق اس روایت کے پیچھے صرف مذہبی نہیں بلکہ مضبوط اقتصادی وجوہات بھی ہیں:
زمین کی تقسیم کو روکنا: پہاڑوں میں زرخیز زمین بہت محدود ہے۔ اگر ہر بھائی الگ شادی کرے تو زمین کے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ہی بیوی ہونے سے خاندان متحد رہتا ہے اور پدری جائیداد کی تقسیم نہیں ہوتی۔
خاندانی یکجہتی: یہ روایت خاندان کو بکھرنے سے بچاتی ہے۔ گھر کے تمام مرد مل کر کھیتی باڑی اور پالتو جانوروں کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔
بچوں کی پرورش: بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری پورے خاندان کی ہوتی ہے حالانکہ روایت کے مطابق سب سے بڑے بھائی کو ہی بچوں کا قانونی والد مانا جاتا ہے۔
یہ روایت کہاں- کہاں ہے؟
یہ روایت بنیادی طور پر ہماچل کے کنور اور سِرمور اور اترکھنڈ کے جونسار-باور علاقہ میں دیکھی جاتی ہے۔ ان قبائلی علاقوں میں اسے پانڈو روایت کا احترام سمجھا جاتا ہے۔
قانون اور معاشرت کا نقطہ نظر
ہندوستانی قانون عام طور پر کئی شوہروں والی شادی کو تسلیم نہیں کرتا لیکن ہماچل کے کچھ ریونیو ریکارڈ میں جوڑی دار روایت کا ذکر آج بھی ملتا ہے۔ معاشرے میں اسے نفرت کی نظر سے نہیں بلکہ وراثت اور اتحاد کو برقرار رکھنے کے ایک طریقے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ نئی نسل اور بڑھتی ہوئی تعلیم کی وجہ سے اب ایسی شادیاں بہت نایاب ہو گئی ہیں۔