انٹرنیشنل ڈیسک: مغربی ایشیا میں جاری فوجی تنازع کے درمیان سوئٹزرلینڈ نے اپنی روایتی غیر جانبداری کی پالیسی برقرار رکھتے ہوئے امریکہ کو ہتھیاروں کی برآمد پر عارضی پابندی لگا دی ہے۔ اس قدم سے امریکی دفاعی سپلائی سلسلے پر اثر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
غیر جانبداری کی پالیسی کا حوالہ۔
سوئس حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ایسے ملک کو جو موجودہ جنگ میں شامل ہے ہتھیاروں کی برآمد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکومت کے مطابق ایران سے جڑے تنازع میں شامل ممالک کو جنگ کے دوران ہتھیار برآمد کرنے کے لیے اجازت نامہ جاری کرنا ان کی غیر جانبداری کی پالیسی کے خلاف ہو گا۔ اسی وجہ سے امریکہ کو بھی فی الحال نئے برآمدی اجازت نامے نہیں دیے جا رہے ہیں۔
28 فروری کے بعد سے کوئی نیا اجازت نامہ نہیں۔
حکومت نے معلومات دی کہ اٹھائیس فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں کے بعد سے اب تک امریکہ کو ہتھیار برآمد کرنے کے لیے کوئی نیا اجازت نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ یہ قدم خطے میں بڑھتے تناو¿ کے درمیان اٹھایا گیا ہے تاکہ سوئٹزرلینڈ اپنی غیر جانب دار حیثیت برقرار رکھ سکے۔
ماہرین کا گروپ جائزہ لے گا۔
سوئس انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ دفاعی شعبے کے ماہرین کی ایک ٹیم اس فیصلے اور اس کے اثرات کا جائزہ لے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ملک کے غیر جانبداری قانون کے تحت آئندہ مزید کن اقدامات کی ضرورت ہے۔
پہلے بھی ایسا قدم اٹھا چکا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سوئٹزرلینڈ نے اس طرح کا فیصلہ کیا ہو۔ اس سے پہلے 2003میں عراق جنگ کے دوران بھی اس نے امریکہ سمیت جنگ میں شامل ممالک کو ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی لگا دی تھی اور اپنے فضائی علاقے کے استعمال پر بھی روک لگا دی تھی۔ بعد میں حالات معمول پر آنے پر یہ پابندیاں ہٹا لی گئی تھیں۔
عالمی اثرات کا خدشہ۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے اس فیصلے سے بین الاقوامی دفاعی بازار اور تعاون پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ساتھ ہی اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ یورپی ممالک موجودہ تنازع کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔