اگرآپ چین کی مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو آپ کو چین کی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے، یہی بات چین کے بارے میں تحقیق کرنے والے حکمت کاروں کا کہنا ہے۔ ان کے ایسا کہنے کے پیچھے ایک وجہ ہے، درحقیقت جب بھی چین کسی بھی ملک کی سرحد، اس کے کسی بھی علاقے پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے، تو وہ بڑی چالاکی سے اس علاقے کی قدیم تاریخ میں جا کر کچھ چیزیں کھنگال کر باہر نکل جاتا ہے۔
اس کو قدیم چین کی تاریخ سے جوڑتا ہے جس کے بعد چین اس علاقے پر اپنا قبضہ جمانے کی سازش کرتا ہے۔ ان دنوں چین بھارت کے لداخ، نیپال اور پاکستان کے گلگت بلتستان کے علاقوں پر قبضے کے لئے ایسی ہی سازشیں کر رہا ہے۔ ہمالیائی خطے کا ایک بڑا حصہ جس میں نہ صرف تبت شامل ہے بلکہ اس کے تین ہمسایہ ممالک کی سرزمین بھی شامل ہے، چین اس پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ تاریخ کو کھنگالنے کے پیچھے بھی چین کی مکارانہ نیت صاف نظر آتی ہے۔
ان دنوں چین مقبوضہ آزاد ملک تبت کو اپنا صوبہ بنانے کے بعد اس کی تاریخ کوکھنگال رہا ہے، درحقیقت ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کے پورے لداخ کو چھانگ چھنگ راج تنتر کہہ کر تحقیق کر رہا ہے۔
مغربی تبت کے علاقے میں کھنگالنے کا کام اور تحقیق کر رہا ہے، اس کی توجہ چھانگ چھنگ راج تنتر کی طرف ہے، درحقیقت چین کی تعریف کے مطابق چھانگ چھنگ بدھ مذہب کے لٹریچر میں مذکور زمین پر آسمان کی بات کرتا ہے جسے چھانگ چھنگ کہا جاتا ہے۔ اس پورے علاقے کے ساتھ تبت میں نیپال کے کچھ علاقے، بھارت کے لداخ اور پاکستان کے زیر قبضہ وسیع تر لداخ کے علاقے گلگت بلتستان میںآتے ہیں۔
چین اس وقت اس علاقے میں جو تحقیق اور کھنگالنے کا کام کر رہا ہے اس کے پیچھے چین کا مقصد یہ ہے کہ وہ اسے تاریخی، ثقافتی طریقے سے اپنا بتائے گا اور پھر اس پورے علاقے پر اپنا قانونی دعویٰ ٹھوک دے گا۔ اس کے لئے چین اپنے پڑوسی ممالک پر دباؤ ڈالے گا۔ وہ ممالک جن کے سامنے نیپال، عسکری طور پر کمزور ہو کر گھٹنے ٹیک دے گا، جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، وہ پہلے ہی چین کے قرضوں کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔
اس لئے وہ پہلے ہی جھک چکا ہے، اب بھارت کو لداخ کا خطہ لینے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے، اس کے لئے چین بھارت سے بھی لڑ سکتا ہے۔ ان دنوں چین بھارت کے ساتھ گلوان، گوگرہ ہلز، پینگانگ جھیل، دولت بیگ اولڈی اور پھر توانگ جیسے علاقوں میں فوجی اڈے تیار کر کے سنگھرش کر رہا ہے۔ اس کے پیچھے بھارت کی قوت برداشت اور عسکری تیاریوں کو جانچنا اور پرکھناہے، جس کی بنیاد پر چین مزید آگے بڑھے گا۔ حکمت عملی بنائے گا۔سب سے مشکل کی بات یہ ہے کہ چین سے باہر کسی کو اس کے ارادے کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔
جیسا کہ دنیا جانتی ہے کہ چین کے لئے تاریخی حقائق اور سچائی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ چین ان باتوں کو بہانہ بنا کر دوسرے کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
جنوبی چین ساگر میں چین نے کئی پڑوسی جزیروں پر قبضہ کر کے اپنے بحری اڈے بنا لئے ہیں اور یہاں تک کہ ائر فورس بیس بنایا گیا ہے۔ چھانگ چھنگ کے بارے میں بیرونی دنیا کو بہت کم علم ہے، چین اس کا فائدہ اپنے حق میں لینا چاہتا ہے۔ اسے ایک مدعا بنا کر، چین ثقافتی، جیو اسٹریٹجک طور پر اس کے ساتھ جوڑ توڑ کرنا چاہتا ہے۔
چین ماہرین آثار قدیمہ اور مؤرخین کی مدد سے اس خطے کی تاریخ کو از سر نو مرتب کرنا چاہتا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں چھانگ چھنگ کے مفروضے کی بنیاد پر اس پورے خطے پر اپنی عملداری قائم کرنے کے کام کو جائز اور قانونی طور پر ثابت کر سکے۔
اس میں سی پی سی جو کھیل کر رہی ہے اس کا پہلا قدم تبت کے آزاد وجود کو مٹانا ہے، پھر اپنے دلائی لامہ کا انتخاب کرنا ہے اور پھر تبت اور چھانگ چھنگ کو تبتی ثقافت اور مذہب سے جوڑنا ، اس کے بعد چین بدھ مت کو بھارت سے الگ بتائے گا۔ ایسا کر کے چین بھارت کو بدھ مت سے دور کرنا چاہتا ہے، اگر چین ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو چین کے لئے راستہ صاف ہو جائے گا کہ تبت چین کا حصہ ہے اور چھانگ چھنگ بھی چین کا حصہ بن جائے گا۔
چین کولداخ کے ایک بڑے حصے پر اپنی دعویداری کا آئینی حق ہوگا ایساچین سمجھتا ہے ۔یعنی اپنی ناپاک پالیسی کے تحت کسی ملک کی زمین پر قبضہ کرنے کے لئے پہلے تاریخ کی چھان بین کرتا ہے اور اسے موجودہ اور قدیم چین سے جوڑتا ہے۔ اس کے بعد چھل، بل ،سام اور دنڈ کی پالیسی کا استعمال کرکے اس حصے پر اپنا قبضہ جما لیتا ہے۔ لیکن چھانگ چھنگ راج ونش کے معاملے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آگے کے حالات کون سا موڑ لیتے ہیں۔