ڈھاکہ:بنگلہ دیش میں اقلیتی ہندو برادری کے خلاف تشدد کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔تازہ واقعے میں سیلہٹ ضلع کے گوائن گھاٹ اپزلہ کے باہر گاوں میں ایک ہندو سکول کے استاد، بیرندر کمار کے گھر کو آگ لگا دی گئی۔سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ کس طرح آگ کی لپٹوں نے پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اہلِ خانہ اپنی جان بچانے کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے۔مقامی رپورٹس کے مطابق اس حملے کے پیچھے مبینہ طور پر سخت گیر اسلامی گروہوں کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔
ہندو نوجوان کابے رحمی سے قتل
اسی ہفتے ایک اور دردناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں فینی ضلع کے دگن بھویاں اپزلہ میں ایک 27 سالہ ہندو آٹو رکشا ڈرائیور، سمیر داس کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔سمیر اتوار کی شام اپنے آٹو رکشا سمیت گھر سے نکلا تھا لیکن واپس نہیں آیا۔اگلے دن جگت پور گاوں کے ایک کھیت سے اس کی لاش برآمد ہوئی۔
انتہائی عبوری حکومت کے دور میں بڑھتا ہوا تشدد
گزشتہ 24 دنوں میں ہندووں کو نشانہ بنانے والا یہ نوواں واقعہ ہے۔جب سے بنگلہ دیش میں محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت اقتدار میں آئی ہے، تب سے اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں شدید اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔اس صورتحال پر دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔
بھارت نے ظاہر کی گہری تشویش
بھارتی حکومت نے بھی بنگلہ دیش میں جاری ان مسلسل حملوں پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ 9 جنوری کو بھارت نے ان فرقہ وارانہ واقعات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بنگلہ دیش کی صورتحال پر قریب سے نظر رکھ رہا ہے۔بھارت نے امید ظاہر کی ہے کہ بنگلہ دیش حکومت ایسے تشدد کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے گی۔