National News

روس-یوکرین جنگ سے وینیزویلا تک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل گوٹیریس کا سخت پیغام، اقوام متحدہ کا چارٹر کوئی مینیونہیں

روس-یوکرین جنگ سے وینیزویلا تک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل گوٹیریس کا سخت پیغام، اقوام متحدہ کا چارٹر کوئی مینیونہیں

انٹرنیشنل ڈیسک: اقوام متحدہ کے سربراہ نے کچھ ممالک کی طرف سے بین الاقوامی قانون کی کھلے عام خلاف ورزی کی سخت مذمت کرتے ہوئے زور دیا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر کوئی ایسا 'مینیو' (کھانوں کی فہرست) نہیں ہے جس میں سے اپنی پسند کے قوانین چنے جا سکیں۔
گوٹیریس نے کہا کہ جب رہنما اپنی سہولت کے مطابق یہ چن لیتے ہیں کہ کون سا قانون ماننا ہے اور کون سا نہیں، تو وہ دنیا کے نظام کو کمزور کرتے ہیں اور ایک انتہائی خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے طور پر اپنے دورِ کار کے آخری سال میں داخل ہونے والے گوٹیریس نے جمعرات کو 193 رکن ملکوں کی جنرل اسمبلی سے کہا کہ وہ 2026 کے ہر دن کو بامعنی بنائیں گے اور بہتر دنیا کے لیے کام کرنے، لڑنے اور کوشش جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم اور ثابت قدم ہیں۔
وینیزویلا میں حالیہ امریکی فوجی کارروائی، 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے اور دیگر جیوپولیٹیکل چیلنجز کے پس منظر میں گوٹیریس نے کہا کہ دنیا تنازع، عدم مساوات اور غیر یقینی صورتحال سے بھری ہوئی ہے۔انہوں نے کہا، ایک ایسی دنیا جو خود کش جیوپولیٹیکل تقسیموں، بین الاقوامی قانون کی کھلے عام خلاف ورزیوں اور ترقی و انسانی امداد میں وسیع کمی سے متاثر ہے۔ یہ طاقتیں اور دیگر عوامل عالمی تعاون کی بنیاد کو ہلا رہے ہیں اور کثیر الجہتی لچک کی صلاحیت کی جانچ کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے سال کی اپنی ترجیحات کے بارے میں اپنے روایتی خطاب میں کہا، یہی ہمارے دور کا تضاد ہے: جس وقت ہمیں بین الاقوامی تعاون کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اسی وقت ہم اس کا استعمال کرنے اور اس میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے سب سے کم ٍ خواہش مند نظر آتے ہیں۔
کچھ لوگ بین الاقوامی تعاون کو ختم کرنے کے کنارے پر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ ہم ہار نہیں مانیں گے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے طور پر گوٹیریز کا دوسرا پانچ سالہ دور 31 دسمبر، 2026 کو ختم ہوگا۔گوٹیریس نے امریکہ اور وینیزویلا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناو اور وینیزویلا کے رہنما نکولس مادورو کے گرفتار کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات ایک خطرناک مثال ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بین الاقوامی قانون کے قواعد کا احترام نہیں کیا گیا۔یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف بھی مسلسل آواز بلند کرنے والے گوٹیریز نے جنرل اسمبلی سے کہا کہ یوکرین میں لڑائی روکنے اور اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور پائیدار امن حاصل کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے۔
انہوں نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پابندی نہ کرنے پر ممالک کی سخت تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ چارٹر ایک معاہدہ ہے جو ہم سب کو باندھتا ہے۔
گوٹیریز نے کہا کہ اقوام متحدہ کا چارٹر "اے لا کارٹے مینو" (ایسی فہرست جس میں من پسند کھانے منتخب کیے جائیں) نہیں بلکہ "پری فکس" (ایسا مینو جس میں طے شدہ کھانے ملیں) ہے۔انہوں نے کہا، ہمیں اقوام متحدہ کے چارٹر کی پوری طرح اور ایمانداری سے پابندی کرنی ہوگی۔ کوئی لیکن مگر نہیں۔انہوں نے کہا،یہ چارٹر بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ہے—امن، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کی اساس ہے۔گوٹیریس نے کہا، جب رہنما بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں، جب وہ اپنی مرضی سے قوانین کی پیروی کرتے ہیں، تو وہ نہ صرف عالمی نظام کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ایک خطرناک مثال بھی قائم کر رہے ہوتے ہیں۔
گوٹیریس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون کا زوال چھپ کر نہیں بلکہ دنیا کی آنکھوں کے سامنے، ہماری سکرین پر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر جگہ لوگ بے سزائی کے نتائج دیکھ رہے ہیں-طاقت کا غیر قانونی استعمال اور اس کی دھمکی، عام شہریوں، انسانی امدادی کارکنوں اور اقوام متحدہ کے عملے پر حملے، حکومتوں میں غیر آئینی تبدیلی، انسانی حقوق کا دباو، اختلاف کی آواز کو دبانا، وسائل کی لوٹ مار۔گوٹیریس نے کہا، جب چند افراد عالمی مباحثے کو موڑ سکتے ہیں، انتخابات پر اثر ڈال سکتے ہیں یا عوامی بحث کے اصول طے کر سکتے ہیں تو ہم صرف عدم مساوات کا سامنا نہیں کر رہے ہوتے، ہم اداروں اور ہمارے مشترکہ اقدار کے زوال کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔
 



Comments


Scroll to Top