پشاور: پاکستان کے خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں 25 مارچ سے جاری شدید بارش کے باعث چھتیں اور دیواریں گرنے سے کم از کم 17 افراد جاں بحق ہو گئے اور 56 دیگر زخمی ہو گئے۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے پیر کے روز اس بارے میں معلومات دی ہیں۔ سب سے زیادہ اموات بنوں میں ہوئیں جہاں 7 بچوں اور ایک عورت سمیت8افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 42 دیگر زخمی ہوئے۔
پاکستان کے روزنامہ دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ایبٹ آباد میں چار بچوں سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ کوہاٹ میں دو افراد شمالی وزیرستان میں ایک شخص اور بٹگرام میں ایک عورت ہلاک ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق بارش سے 11 گھروں کو نقصان پہنچا جن میں سے 5 بنوں میں ہیں۔ بنوں میں چھت گرنے کے کئی واقعات سامنے آئے۔ ڈیڈ کچلوٹ میں ایک چھت گرنے سے3بچوں9سالہ آصف6 سالہ عمرہ اور 3 سالہ جاویریہ کی موت ہو گئی۔ کوٹکا غلام قادر میں ایک کمیونٹی مرکز کے برآمدے کی چھت گرنے سے دو افراد جاں بحق ہو گئے اور 39 دیگر زخمی ہو گئے۔ ماما خیل میں ایک گھر کی دیوار گرنے سے دو بچوں کی موت ہو گئی۔ شمدی خیل میں ایک کمرے کی چھت گرنے سے ایک عورت جاں بحق ہو گئی۔ شدید بارش کے دوران کوہاٹ کے گمبٹ میں ایک کمرے کی چھت گرنے سے دو بچوں کی موت ہو گئی۔ ایبٹ آباد میں حویلیاں تحصیل کے علاقے حاجیہ گلی میں ایک کمرے کی چھت گرنے سے پانچ افراد جاں بحق ہو گئے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کے افسران صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ متاثرہ اضلاع میں امدادی اور بچاو¿ کا کام جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکام نے متاثرہ اضلاع میں مقامی انتظامیہ کو امدادی سامان کی تیز تقسیم یقینی بنانے کے احکامات دیے ہیں۔ سرائے نورنگ میں چھت گرنے سے لکی مروت میں دو بچے زخمی ہو گئے۔ امدادی ٹیموں نے انہیں ملبے سے نکالا اور ہسپتال پہنچایا۔ نوشہرہ میں ایک گھر کی چھت گرنے سے دو مرد اور دو عورتیں زخمی ہو گئیں۔ بچاو¿ 1122 کی ٹیموں نے تمام زخمیوں کو بچایا اور ہسپتال پہنچایا۔
صوبے کے مختلف اضلاع میں منگل تک وقفے وقفے سے بارش جاری رہنے کی توقع ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات سے دور رہیں اور سرکاری اداروں کی جانب سے جاری حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔