انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے۔ ملک کی طاقتور عسکری تنظیم اسلامی انقلابی گارڈ کور کے انٹیلی جنس سربراہ مجید خادمی پیر کے روز ہلاک ہو گئے۔ ابتدا میں ان کی موت کی وجہ کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔ تاہم بعد میں اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دعویٰ کیا کہ ان کی ہلاکت امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں ہوئی ہے۔ تنظیم نے اس واقعے کو دہشت گرد حملہ قرار دیا۔ اس حملے کے بعد جنگ روکنے کے دعووں پر ایک بار پھر سوال اٹھنے لگے ہیں۔
https://www.instagram.com/p/DWyFk7qjaSO/?utm_source=ig_web_copy_link
رپورٹس کے مطابق پیر کی صبح ایران کے دارالحکومت تہران اور اس کے گرد و نواح میں کئی فضائی حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا اور متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اس حملے کے بارے میں کوئی واضح سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسی وجہ سے واقعے کے حوالے سے مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں اور مکمل حقیقت ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔ ماہرین کے مطابق مجید خادمی کی ہلاکت ایران کے لیے بڑا نقصان ہے کیونکہ وہ ملک کی سلامتی اور خفیہ حکمت عملی میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔