واشنگٹن: امریکہ کی حکومت نے ایک نئی پالیسی نافذ کی ہے۔ اس کے تحت اب گرین کارڈ رکھنے والے افراد ( قانونی طور پرمستقل رہائشی ) ایس بی اے لون نہیں لے سکیں گے۔ یعنی جو لوگ امریکہ میں رہتے ہیں لیکن شہری نہیں ہیں، وہ چھوٹے کاروبار کے لیے سرکاری قرض حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اس فیصلے پر ڈیموکریٹک پارٹی نے سخت تنقید کی ہے۔ ان کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نفرت کی سیاست ہے اور امریکی خواب کو ختم کرنے کے برابر ہے۔
نیا اصول کیا کہتا ہے؟
ایس بی اے نے کہا ہے کہ اب کسی بھی کاروبار کو قرض تبھی ملے گا جب اس کی سو فیصد ملکیت امریکی شہریوں کے پاس ہو۔ اگر کسی کاروبار میں گرین کارڈ رکھنے والے کا ایک فیصد حصہ بھی ہے تو وہ قرض کے لیے نااہل سمجھا جائے گا۔ یہ اصول یکم مارچ2026 سے نافذ ہوگا۔ ڈیموکریٹ رہنما مارکی اور نیڈیا ویلازکویز نے کہا کہ حکومت تارکین وطن کے خلاف خوف اور نفرت پھیلا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محنتی تارکین وطن کی مدد کرنے کے بجائے انہیں باہر کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ امریکی خواب اب تارکین وطن کے لیے نہیں رہا۔
تفصیل جانکاری
موثر تاریخ: یکم مارچ 2026 ۔
اہم پابندی: غیر شہری یعنی گرین کارڈ رکھنے والوں کے مالکانہ حق پر روک۔
متاثرہ طبقہ: تارکین وطن کاروباری افراد، پناہ گزین اور ویزا رکھنے والے افراد۔
معاشی اثر: قرضوں کی تعداد میں تقریباً پچاس فیصد کمی کا دعوی۔
معاشی اثرات کیا ہوں گے؟
ڈیموکریٹ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد ایس بی اے قرضوں کی مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جون سے اگست 2025 کے درمیان ایس بی اے قرضوں میں 46 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی یہ فیصلہ پچھلے 25 برس کی پالیسی کو بدل دیتا ہے جس میں شہریوں اور مستقل رہائشیوں دونوں کو برابر مواقع ملتے تھے۔ یہ اصول صرف گرین کارڈ رکھنے والوں ہی نہیں بلکہ پناہ گزینوں، اسائلم حاصل کرنے والوں اور ڈیکا (DACA )سے فائدہ اٹھانے والوں کو بھی متاثر کرے گا۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی سخت تنقید اور حکومت کا مؤقف
ڈیموکریٹک پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں نے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے نفرت کی سیاست اور امریکی خواب پر حملہ قرار دیا ہے۔ ایس بی اے کی دو فروری کو جاری کی گئی اس پالیسی کے مطابق اب ایس بی اے قرض حاصل کرنے کے لیے کاروبار کی سو فیصد ملکیت امریکی شہریوں کے پاس ہونا ضروری ہے۔ ایس بی اے کا کہنا ہے کہ یہ اصول قانون اور ایک صدارتی حکم کے مطابق ہے جس کا نام ہے پروٹیکٹنگ دی امریکن پیپل اگینسٹ انویژن (Protecting the American People Against Invasion)۔ اس کے تحت بینکوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ کاروبار کے مالکان نااہل افراد میں شامل نہ ہوں۔
ہندوستانی نژاد امریکی کاروباری افراد کی مشکلات بڑھیں گی
ہندوستانی نژاد امریکی برادری کے بہت سے لوگ امریکہ میں چھوٹے کاروبار چلاتے ہیں۔ اس نئے اصول کے بعد انہیں ایس بی اے قرض نہیں مل سکے گا۔ اس سے ان کے کاروبار کی توسیع، تعمیر اور مرمت پر اثر پڑے گا۔ بہت سے خاندانی کاروباروں میں اگر کسی ایک فرد کے پاس گرین کارڈ ہے تو وہ قرض حاصل نہیں کر سکے گا۔
اسٹارٹ اپ کلچر کو جھٹکا
سیلیکون ویلی سے لے کر نیو جرسی تک کئی ٹیک اسٹارٹ اپ ہندوستانی نژاد افراد گرین کارڈ پر رہتے ہوئے شروع کرتے ہیں۔ اب شہری بنے بغیر انہیں سرکاری مدد والے کم شرح سود کے قرض یعنی 7 اے اور504 قرض نہیں مل سکیں گے۔
ہوٹل اور موٹل صنعت پر اثر
امریکہ میں تقریباً ساٹھ فیصد موٹلز کے مالک ہندوستانی نژاد امریکی ہیں، جن میں زیادہ تر گجراتی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے کئی خاندان اب بھی گرین کارڈ کے مختلف مراحل میں ہیں۔ قرض نہ ملنے سے ان کی توسیع اور تزئین و آرائش کے کام رک جائیں گے۔
خاندانی کاروبار میں حصے داری کا مسئلہ
اگر کسی کاروبار میں باپ امریکی شہری ہے لیکن بیٹے کے پاس گرین کارڈ ہے اور اس کی ایک فیصد بھی شراکت ہے تو وہ کاروبار قرض کے لیے نااہل ہو جائے گا۔ یہ خاندانی کاروباروں کا ڈھانچہ بدلنے پر مجبور کرے گا ۔
سرمائے کی لاگت میں اضافہ
ایس بی اے قرض نہ ملنے کی صورت میں ان کاروباری افراد کو نجی بینکوں یا نجی قرض دہندگان کے پاس جانا ہوگا جہاں شرح سود زیادہ ہوتی ہے۔ اس سے کاروبار کی منافع بخشی کم ہو جائے گی۔
ہندوستانی برادری کے لیے چیلنجز
شہریت حاصل کرنے میں جلد بازی کا دبا ؤبڑھے گا۔ اس سے ہندوستان کے ساتھ ان کے اوورسیز سٹیزن آف انڈیا تعلقات پر ذہنی اور قانونی اثر پڑ سکتا ہے۔ اگر امریکہ میں کاروبار کرنا مشکل ہو گیا تو بہت سے ماہر ہندوستانی کاروباری افراد کینیڈا یا واپس ہندوستان کا رخ کر سکتے ہیں جہاں اسٹارٹ اپس کے لیے بہتر ماحول موجود ہے۔