Latest News

کیا ہندوستان میں پٹرول اور باسمتی چاول مہنگے ہوں گے ؟ کیا ایک بار پھر بڑھے گی مہنگائی ؟ ایران میں احتجاج نے ملک میں بڑھائی ٹینشن

کیا ہندوستان میں پٹرول اور باسمتی چاول مہنگے ہوں گے ؟ کیا ایک بار پھر بڑھے گی مہنگائی ؟ ایران میں احتجاج نے ملک میں بڑھائی ٹینشن

انٹر نیشنل ڈیسک : ایران میں دسمبر 2025 سے شروع ہونے والے احتجاج اب بڑے پیمانے پر پھیل چکے ہیں۔ مسلسل بڑھتے ہوئے مظاہروں نے ایرانی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ اسے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ ہندوستانی وزارتِ خارجہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ اس عدم استحکام کا براہِ راست اثر ہندوستان کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور مستقبل کی تجارتی حکمتِ عملیوں پر پڑنے والا ہے۔
 ایران میں احتجاج کی وجوہات
ایران میں عوامی غصے کی بنیادی وجہ وہاں کی بگڑتی ہوئی معیشت ہے۔
کرنسی کی گراوٹ: ایرانی ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں گیارہ لاکھ کی ریکارڈ نچلی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے لوگوں کی جمع پونجی بے قدر ہو گئی ہے۔
مہنگائی اور بے روزگاری: کھانے والی اشیاء کی قیمتوں میں بیالیس فیصد سے زیادہ اضافہ اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے لوگوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔

PunjabKesari
سیاسی بے چینی: ابتدا میں معاشی مسائل پر شروع ہونے والی یہ تحریک اب اعلی ترین رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے اقتدار کے خاتمے کے مطالبے میں تبدیل ہو چکی ہے۔
چابہار بندرگاہ 
 ہندوستان  نے یہاں تقریبا ًچار ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ پاکستان کے راستے کو نظرانداز کرتے ہوئے  ہندوستان کو افغانستان اور وسطی ایشیا سے جوڑتی ہے۔ چابہار- زاہدان ریلوے لائن کا کام بھی 2026 کے وسط تک مکمل ہونا تھا، جو اب تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔

 INSTC راہداری: یہ راستہ  ہندوستان  سے روس تک سامان پہنچانے کے وقت میں چالیس فیصد اور لاگت میں تیس فیصد کمی لاتا ہے۔ ایران میں عدم استحکام کا مطلب اس پوری راہداری کا مفلوج ہونا ہے۔
 توانائی کی سلامتی اور تجارت:  ہندوستان  اب بھی ایران سے تیل اور گیس کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان سے باسمتی چاول کی بڑی برآمد پہلے ہی رک چکی ہے، جس سے  ہندوستانی  تاجروں کی رقوم پھنسنے کا خدشہ ہے۔
 چیلنجز اور خطرات: چین اور امریکہ کا عنصر
ایران میں عدم استحکام کا براہِ راست فائدہ چین کو مل سکتا ہے۔ چین پاکستان کے گوادر بندرگاہ پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔ اگر چابہار منصوبہ سست پڑ گیا تو وسطی ایشیا کی پوری منڈی  ہندوستان  کے ہاتھ سے نکل کر چین کے پاس جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے تجارتی شراکت داروں پر 25  فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کی دھمکی نے ہندوستان کی مشکلات کو دوگنا کر دیا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top