National News

اویغور ظلم پر چین کی گھیرا بندی ، ایشیا سے یورپ تک بڑھا عالمی احتجاج

اویغور ظلم پر چین کی گھیرا بندی ، ایشیا سے یورپ تک بڑھا عالمی احتجاج

بیجنگ: چین کی جانب سے اویغور مسلم کمیونٹی پر کیے جانے والے ظلم و ستم کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج اور دباو مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ورلڈ اویغور کانگریس نے اپنی ہفتہ وار بریف میں بتایا کہ ایشیا، آسٹریلیا، یورپ اور شمالی امریکہ میں سیاسی، قانونی اور سفارتی محاذوں پر چین کی پالیسیوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔
جاپان میں سیاسی حمایت
جاپان میں وزیر اعظم سانے تاکائیچی اور ان کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کی پارلیمانی فتح کا ورلڈ اویغور کانگریس نے خیرمقدم کیا ہے۔ تاکائیچی پہلے بھی اویغور نمائندوں سے ملاقات کر چکی ہیں اور اس مسئلے پر پارلیمانی سطح پر حمایت ظاہر کرتی رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اویغور نسل کی رکن پارلیمنٹ ایری ارفیہ کے دوبارہ منتخب ہونے کو بھی جمہوریت اور اقلیتی حقوق کے لیے مثبت اشارہ بتایا گیا ہے۔
آسٹریلیا میں قانونی چیلنج
آسٹریلیا میں آسٹریلین اویغور ٹنگریتاغ خواتین ایسوسی ایشن نے فیڈرل کورٹ آف آسٹریلیا میں درخواست دائر کی ہے جس میں ریٹیل کمپنی Kmart Australia سے ان سپلائرز کی معلومات عام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جن کا تعلق مبینہ طور پر چین کے اویغور علاقے میں جبراً مزدوری سے ہے۔ یہ معاملہ آسٹریلیا میں جدید غلامی قوانین کو مزید سخت کرنے کی بحث کے درمیان سامنے آیا ہے۔
بین الاقوامی فورمز پر چین کی تنقید
جنیوا میں ایک بین الاقوامی فورم پر اویغور حقوق کی کارکن زمرتای ارکین نے کہا کہ چین کا ظلم اب عارضی مہم نہیں بلکہ ایک ادارہ جاتی نظام بن چکا ہے۔ انہوں نے خاندانوں کو جبراً جدا کرنے، مزدوری کی منتقلی اور اویغور خواتین کو نشانہ بنانے کی پالیسیوں پر تشویش ظاہر کی اور حکومتوں کو خبردار کیا کہ بغیر جوابدہی کے چین کے ساتھ تعلقات بحال نہ کریں۔
امریکہ اور لاطینی امریکہ میں آواز
میکسیکو میں منعقد پروگرام میں اویغور کارکن روشن عباس نے کہا کہ چین کی جبراً مزدوری کی پالیسیاں عالمی سپلائی چین تک اثر ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی بہن گلشن عباس کی قید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف کاروبار نہیں بلکہ انسانی تکلیف سے جڑا ہوا ہے۔
میونخ اور ہانگ کانگ میں بڑھتی تشویش
میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے پہلے یورپی ممالک میں چین کے ساتھ تعلقات پر دوبارہ غور و فکر کی بات تیز ہو گئی ہے۔ جبکہ ہانگ کانگ میں میڈیا کاروباری جمی لائی کو نیشنل سیکیورٹی قانون کے تحت طویل سزا دیے جانے کے بعد شہری آزادیوں کے محدود ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ حقوقی گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام چین کی ظالمانہ رسائی کے پھیلاو¿ کی نشاندہی کرتا ہے۔


 



Comments


Scroll to Top