انٹر نیشنل ڈیسک : جدید دور میں جہاں دنیا کھلے خیالات کی طرف بڑھ رہی ہے وہیں کچھ سرپرست آج بھی بچوں پر پابندیاں مسلط کرنے کے لیے پرانے اور متنازع طریقوں کا سہارا لیتے ہیں۔ فرانس سے ایسا ہی ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں اپنی 15 سالہ نابالغ بیٹی کا زبردستی ' ورجینٹی ٹیسٹ' کروانے کی کوشش کرنے پر والدین کو عدالت نے قصوروار قرار دیا ہے۔
بوائے فرینڈ کا پتہ چلتے ہی والدنے کھویا آپا
واقعے کی شروعات مارچ 2025 میں ہوئی جب ایک پیشہ ور باکسر والد کو اپنی 15 سالہ بیٹی کے محبت کے تعلق کے بارے میں پتہ چلا۔ غصے میں آ کر والد نے نہ صرف بیٹی کے ساتھ مارپیٹ کی بلکہ اس کی پاکیزگی کی تصدیق کرنے کی ضد بھی کی ۔ والدین اپنی بیٹی کو ایک ماہر امراض نسواں کے پاس لے گئے اور ڈاکٹر سے اس کی ورجینٹی کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ خوش قسمتی سے ڈاکٹر نے اس طرح کا کوئی بھی ٹیسٹ کرنے سے صاف انکار کر دیا کیونکہ فرانس میں یہ مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔
عدالت کا سخت مؤقف: نیت ہی جرم ہے
لا روش سور - یون کی پبلک پراسیکیوٹر سارا ہوئے نے عدالت میں واضح کیا کہ ورجینٹی ٹیسٹ کا مطالبہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے والدین کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ یہ ایک عام طبی معائنہ تھا۔
عدالت کا فیصلہ
نابالغ کو اپنی ورجینٹی ثابت کرنے کے لیے اکسانے کے جرم میں ماں کو تین ماہ کی معطل قید (Suspended Sentence) کی سزا سنائی گئی۔ جبکہ والد کو تشدد کرنے اور سرپرست کے طور پر اپنی ذمہ داریوں میں ناکام رہنے پر چھ ماہ کی معطل سزا دی گئی اور دو سال کے پروبیشن پر رکھا گیا ہے۔
ورجینٹی ٹیسٹ پر پابندی کیوں ہے
فرانسیسی قانون کے مطابق ورجینٹی ٹیسٹ کو توہین آمیز اور امتیازی سلوک سمجھا جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کسی بچے کی حفاظت، صحت اور اخلاقیات کو خطرے میں ڈالنا پرورش کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ پراسیکیوٹر نے زور دے کر کہا کہ اگرچہ ٹیسٹ نہیں ہوا لیکن والدین کا ایسا ارادہ رکھنا ہی سزا کے لیے کافی ہے۔ یہ معاملہ دنیا بھر کے ان والدین کے لیے ایک سخت پیغام ہے جو اپنی قدامت پسند سوچ بچوں پر زبردستی مسلط کرتے ہیں۔