واشنگٹن: سال 2025 کے آخر میں امریکی معیشت کی رفتار توقع سے کہیں زیادہ سست رہی ہے، جس سے فیڈرل ریزرو کے لیے آنے والے وقت میں شرح سود کے بارے میں فیصلہ لینا پیچیدہ ہو گیا ہے۔ جمعہ کو جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، چوتھی سہ ماہی میں امریکہ کی جی ڈی پی صرف 1.4 فیصد کی سالانہ شرح سے بڑھی، جو کہ 2.5 فیصد کے متوقع اندازے سے کافی کم ہے۔
معاشی سستی اور مہنگائی کے اعداد و شمار۔
پورے سال 2025 کے لیے، امریکی معیشت میں 2.2 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا، جو کہ 2024 میں درج کیے گئے 2.8 فیصد اضافے سے کم ہے۔ دوسری جانب، مہنگائی اب بھی فیڈرل ریزرو کے 2 فیصد کے ہدف سے اوپر برقرار ہے۔ دسمبر میں کور پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر پی سی ای انڈیکس 3 فیصد پر رہا، جبکہ ہیڈ لائن پی سی ای انڈیکس 2.9 فیصد تک پہنچ گیا۔ دونوں اشاریوں میں ماہانہ بنیاد پر 0.4 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جو ماہرین کے 0.3 فیصد کے اندازے سے زیادہ ہے۔
ٹرمپ نے شٹ ڈاون کو ذمہ دار قرار دیا۔
اعداد و شمار کے جاری ہونے سے عین پہلے، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس سستی کے لیے نومبر میں ہونے والے سرکاری کام کاج کے بند گورنمنٹ شٹ ڈاو¿ن کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس بندش کی وجہ سے جی ڈی پی کو کم از کم دو ہندسوں کا نقصان ہوا ہے۔ ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول پر بھی نشانہ سادھتے ہوئے انہیں ٹو لیٹ پاول کہا اور شرح سود میں تیزی سے کمی نہ کرنے پر ان پر تنقید کی۔
سستی کے اسباب اور مستقبل کے امکانات۔
وزارت تجارت کے مطابق، جی ڈی پی میں اس کمی کی بنیادی وجہ صارفین کے اخراجات اور برآمدات میں آئی کمی تھی۔ صارفین کے اخراجات، جو تیسری سہ ماہی میں 3.5 فیصد تھے، چوتھی سہ ماہی میں کم ہو کر 2.4 فیصد رہ گئے۔ اسی طرح، برآمدات میں بھی 0.9 فیصد کی کمی درج کی گئی۔
تاہم، کچھ ماہرین اب بھی امید ظاہر کر رہے ہیں۔ نیوی فیڈرل کریڈٹ یونین کی چیف ماہر معاشیات ہیدر لانگ نے کہا کہ اگرچہ سرکاری بندش نے ترقی کو نقصان پہنچایا ہے، لیکن اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی اور مضبوط صارفین کی وجہ سے معیشت اب بھی لچکدار ہے۔ نجی گھریلو خریداروں کی حتمی فروخت میں 2.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جو معیشت میں مضبوط اندرونی طلب کا اشارہ دیتا ہے۔