National News

وزیراعظم مودی کی ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کے ساتھ اے آئی راونڈ ٹیبل، ہندوستان پر مبنی اختراعات پر زور

وزیراعظم مودی کی ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کے ساتھ اے آئی راونڈ ٹیبل، ہندوستان پر مبنی اختراعات پر زور

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کو 16 اے آئی (مصنوعی ذہانت) اور ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کے سی ای اوز اور بانیوں کے ساتھ ایک تفصیلی راونڈ ٹیبل میٹنگ کی، جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کو معیشت کے اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر اثرات مرتب کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے وزیراعظم نے سی ای اوز پر زور دیا کہ وہ ایسے سولیوشن تیار کریں جو خاص طور پر ہندوستان کی ضروریات کے مطابق ہوں۔
راونڈ ٹیبل میں شریک اسٹارٹ اپس کلیدی شعبوں میں بڑے پیمانے پر درپیش چیلنجز سے نمٹ رہے ہیں۔ صحت کے شعبے میں، وہ جدید تشخیص، جین تھراپی اور مریضوں کے ریکارڈ کے موثر انتظام کے لیے اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ دور دراز علاقوں تک معیاری دیکھ بھال پہنچائی جا سکے۔ زراعت میں، وہ پیداواری صلاحیت بڑھانے اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے جیو اسپیشل اور زیرِ آب انٹیلی جنس کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس گروپ میں سائبر سکیورٹی، اخلاقی اے آئی، خلائی تحقیق، مقامی زبانوں کے ذریعے انصاف اور تعلیم تک رسائی کے ذریعے سماجی بااختیاری اور کاروباری پیداواری صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لیے پرانے نظاموں کو جدید بنانے پر توجہ مرکوز کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔ یہ سب مل کر ایک ایسے ایکو سسٹم کی عکاسی کرتے ہیں جو مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اے آئی پر مبنی جدت طرازی میں عالمی قیادت بھی فراہم کر رہا ہے۔
اے آئی اسٹارٹ اپس نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے ہندوستان کی مسلسل کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے اس شعبے کی تیز رفتار توسیع اور اس میں بے پناہ غیر مستعمل صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اے آئی اختراعات اور تعیناتی کا عالمی رخ تیزی سے ہندوستان کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اب اے آئی کی ترقی کے لیے ایک سازگار اور متحرک ماحول فراہم کر رہا ہے، جس نے عالمی اے آئی منظر نامے پر اپنی موجودگی کو مضبوطی سے قائم کر لیا ہے۔ انہوں نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کی بھی ستائش کی اور اسے اے آئی کے گرد عالمی بات چیت کی تشکیل میں ملک کے بڑھتے ہوئےمقام کا اظہار قرار دیا۔
وزیر اعظم نے بڑے خطرات مول لینے اور اثر انگیز حل تیار کرنے پر اختراع کاروں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے زراعت اور ماحولیاتی تحفظ جیسے مختلف شعبوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال کی صلاحیت پر تبادلہ خیال کیا، جس میں مٹی کی صحت کے تحفظ کے لیے فصلوں کی پیداواری صلاحیت اور کھاد کے استعمال کی نگرانی بھی شامل ہے۔ ہندوستانی زبانوں اور ثقافت کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے مادری زبان میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے اے آئی ٹولز کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے ڈیٹا کی مضبوط گورننس کی ضرورت پر زور دیا، غلط معلومات کے تعلق سے خبردار کیا اور ہندوستان کی ضروریات کے مطابق حل تیار کرنے کی ترغیب دی۔ یو پی آئی کو سادہ اور وسیع پیمانے پر پھیلنے والی ڈیجیٹل جدت طرازی کے ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہوئے، انہوں نے ہندوستانی کمپنیوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور مقامی مصنوعات پر بھروسہ کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے خلائی شعبے میں نجی شراکت داری کو بڑھانے کے بارے میں بھی بات کی اور ہندوستانی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاروں کی گہری دلچسپی کا ذکر کیا۔
اس میٹنگ میں ابرِج، عدالت اے آئی، برین سائیٹ اے آئی، کریڈو اے آئی، ایکا کیئر، گلین، انوگلی، ان ویڈیو، میکو، اوریجن، پروفیز، راسن ، روبرک، سیٹ شور، سپر نووا اور سائفا اے آئی کے سی ای اوز اور بانیان نے شرکت کی۔ اس موقع پر پرنسپل سکریٹری پی کے مشرا، پرنسپل سکریٹری-2 شکتی کانت داس اور وزیر مملکت جتن پرساد بھی موجود تھے۔



Comments


Scroll to Top