واشنگٹن: گرین لینڈ کو امریکہ میں شامل کرنے کو لے کر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان پر یورپ کے کئی بڑے ممالک نے سخت اعتراض کیا ہے۔ فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین اور برطانیہ کے رہنماوں نے ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈریکسن کے ساتھ مل کر گرین لینڈ کی خودمختاری کی حمایت کی ہے۔ یورپی رہنماوں نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے واضح کہا کہ اسٹریٹجک اور معدنی وسائل سے بھرپور آرکٹک جزیرہ گرین لینڈ اس کے عوام کا ہے اور اس پر کسی بیرونی ملک کا دعویٰ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ گرین لینڈ، ڈنمارک سلطنت کا ایک خود مختار خطہ ہے۔
یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاوس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا کہ امریکہ کے لیے گرین لینڈ کو اپنی سکیورٹی ڈھانچے کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ ملر نے ایک انٹرویو میں کہا،صدر مہینوں سے واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ کو گرین لینڈ کو اپنی مجموعی سکیورٹی نظام کا حصہ بنانا چاہیے۔ اس سے پہلے ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈریکسن نے خبردار کیا تھا کہ گرین لینڈ پر امریکی قبضہ نیٹو فوجی اتحاد کے خاتمے جیسا ہوگا۔ انہوں نے گرین لینڈ کے وزیرِ اعظم اور دیگر یورپی رہنماوں کے ساتھ مل کر ٹرمپ کے اس خیال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے حال ہی میں وینزویلا میں فوجی کارروائی کی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر امریکی جارحانہ رویے کو لے کر تشویش بڑھ گئی ہے۔ یورپی ممالک کا ماننا ہے کہ گرین لینڈ پر اس طرح کے بیانات نہ صرف بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں بلکہ یورپ-امریکہ تعلقات اور نیٹو کی یکجہتی کے لیے بھی سنگین خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، آرکٹک علاقے میں وسائل اور اسٹریٹجک اہمیت کو لے کر امریکہ اور یورپ کے درمیان اختلافات اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔