انٹر نیشنل ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے تناؤکا اثر اب عالمی تیل بازار پر صاف نظر آنے لگا ہے۔ جمعرات کی صبح عالمی معیار برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں زوردار اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 8.2 فیصد بڑھ کر ایک سو ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی۔ عراق کے سمندری علاقے میں دو تیل ٹینکروں پر ہونے والے حملے اور اس کے بعد عراق کی جانب سے اپنے تیل کے مراکز پر کام کاج بند کرنے کے فیصلے سے عالمی فراہمی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے، جس کا اثر دنیا بھر کے بازاروں پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، عراق کے سمندری علاقے میں دھماکہ خیز مواد سے بھری ایرانی کشتیوں نے سیف سی وشنو (Safesea Vishnu) اور زیفیروس (Zefyros) نام کے دو تیل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ اس واقعے کے بعد حفاظتی تشویشات کو دیکھتے ہوئے عراق نے اپنے تمام تیل مراکز پر عارضی طور پر کارروائی بند کر دی۔ اس کے نتیجے میں عالمی بازار میں خام تیل کی فراہمی متاثر ہونے کی تشویش بڑھ گئی ہے۔
آئی ای اے کے فیصلے سے بڑھا تناؤ
بتایا جا رہا ہے کہ یہ حملہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے اس فیصلے کے ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں ایجنسی نے مہنگے ہوتے تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنے ہنگامی ذخائر سے چار سو ملین بیرل تیل بازار میں جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس قدم کا مقصد عالمی بازار میں تیل کی دستیابی بڑھا کر قیمتوں کو کم کرنا ہے۔ امریکہ کے ساتھ ساتھ جاپان، جنوبی کوریا، جرمنی اور برطانیہ جیسے کئی ترقی یافتہ ممالک نے بھی اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کا کچھ حصہ بازار میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران کی سخت وارننگ
مانا جا رہا ہے کہ ایران تیل کی قیمتوں میں کمی نہیں چاہتا کیونکہ اس سے امریکہ اور یورپی ممالک پر جنگ ختم کرنے کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں ایران نے عراقی ٹینکروں پر حملہ کر کے سخت پیغام دیا ہے۔ ساتھ ہی ایران نے وارننگ دی ہے کہ اگر اس کے تیل مراکز اور ریفائنریز پر امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے حملے جاری رہے، تو عالمی تیل کی قیمتیں دو سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کی جانب تیل کی فراہمی نہیں ہونے دے گا۔
ہندوستان پر بھی پڑ سکتا ہے اثر
اس واقعہ کا اثر ہندوستان پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ہندوستان اپنی کل تیل کی ضروریات کا تقریباً اسی سے پچاسی فیصد درآمد کرتا ہے، جس میں مشرقِ وسطی کا بڑا حصہ ہے۔ عراق ہندوستان کے اہم فراہم کنندگان میں سے ایک ہے اور ہندوستان اپنے کل درآمد کا تقریبا ًبیس فیصد تیل وہاں سے خریدتا ہے۔ عراق کی جانب سے تیل مراکز پر کارروائی روکنے کے فیصلے سے عالمی فراہمی پر اثر پڑ سکتا ہے، جس کا اثر ہندوستان میں بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
شیئر بازار میں کمی
عالمی تیل بحران کی تشویش کے درمیان ہندوستانی شیئر بازار میں بھی دبا ؤ دیکھنے کو ملا۔ جمعرات کو سینسیکس میں 900 سے زیادہ پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ نفٹی بھی منفی نشان میں کاروبار کرتا دکھائی دیا۔