انٹرنیشنل ڈیسک: گرین لینڈ کو لے کر امریکہ اور یورپ کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم کیر سٹارمر نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کی سخت تنقید کی ہے، جس میں انہوں نے گرین لینڈ نہ بیچنے پر یورپی ممالک پر بھاری محصولات عائد کرنے کی وارننگ دی تھی۔ سٹارمر نے اس اقدام کو “بالکل غلط” قرار دیا۔ وزیراعظم سٹارمر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ گرین لینڈ ڈنمارک سلطنت کا حصہ ہے اور اس کا مستقبل طے کرنے کا حق صرف گرین لینڈ کے لوگوں اور ڈنمارک کو حاصل ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آرکٹک خطے کی سلامتی پورے نیٹو اتحاد کا معاملہ ہے اور روس سے پیدا ہونے والے خطرے کا مقابلہ تمام اتحادیوں کو مل کر کرنا چاہیے۔ سٹارمر نے کہا، “نیٹو کی اجتماعی سلامتی کے لیے کام کرنے والے اتحادی ممالک پر محصولات لگانا بالکل غلط ہے۔ برطانیہ اس مسئلے کو امریکی انتظامیہ کے ساتھ براہ راست اٹھائے گا۔” درحقیقت، صدر ٹرمپ نے ہفتہ کے روز دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کا کنٹرول ضروری ہے۔ انہوں نے وارننگ دی کہ اگر ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک گرین لینڈ بیچنے پر متفق نہیں ہوتے، تو 1 فروری 2026 سے 10 فیصد اور 1 جون 2026 سے 25 فیصد تک محصولات عائد کیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں ڈنمارک، برطانیہ، جرمنی، فرانس، ناروے، سویڈن، نیدرلینڈز اور فن لینڈ کے نام لیتے ہوئے کہا کہ چین اور روس کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے سبب گرین لینڈ امریکہ کے لیے اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم ہے۔ تاہم، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے رہنماو¿ں نے اس تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے خودارادیت کے حق پر زور دیا ہے۔ اس دوران، کئی یورپی ممالک نے گرین لینڈ میں محدود فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جس سے نیٹو کے اندر کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔