Latest News

چین کا ٹرمپ کو سخت پیغام : تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، یکطرفہ ٹیرف فوراً ختم کرو

چین کا ٹرمپ کو سخت پیغام : تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، یکطرفہ ٹیرف فوراً ختم کرو

واشنگٹن: امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اہم تجارتی پالیسی کو جھٹکا دیتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ 1977 کا انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) صدر کو وسیع پیمانے پر درآمدی محصولات (ٹیرِف)لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔ نو ججوں کی بینچ نے چھ بمقابلہ تین کی اکثریت سے یہ فیصلہ دیا۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی رائے لکھی، جس میں کہا گیا کہ  انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ( IEEPA ) میں ٹیرِف یا ڈیوٹی لگانے کا واضح ذکر نہیں ہے، اور اب تک کسی صدر نے اسے اس طرح نہیں پڑھا۔
فیصلے کے بعد چین کے وزارت تجارت (MOFCOM) کے ترجمان نے کہا کہ چین ہمیشہ سے یکطرفہ ٹیرِف میں اضافے کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ ترجمان نے دہرایا کہ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، تحفظ پسندی عالمی تجارت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ امریکہ کے فینٹینائل سے متعلق اور باہمی ٹیرِف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ چین نے واشنگٹن سے اپیل کی کہ تمام یکطرفہ ٹیرِف ہٹا دیے جائیں۔ 
تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی ٹرمپ پیچھے ہٹتے نظر نہیں آ رہے۔ انہوں نے 'ٹروتھ سوشل' پر پوسٹ میں کہا کہ 10 فیصد عالمی ٹیرِف کو قانونی طور پر مجاز 15 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی نئی ٹیرِف پالیسی 'میکنگ امریکہ گریٹ اگین ' کے عمل کو آگے بڑھائے گی۔
چین نے انتباہ دیا ہے کہ اگر امریکہ متبادل اقدامات جیسے تجارتی تحقیقات کے ذریعے ٹیرِف برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے، تو بیجنگ اپنے قانونی مفادات کا دفاع کرے گا۔ اسی دوران وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ ٹرمپ 31 مارچ سے 2 اپریل کے درمیان چین کا دورہ کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تناو کم کرنے کا موقع ہو سکتا ہے یا پھر نئے تصادم کی بنیاد بھی تیار کر سکتا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top