انٹرنیشنل ڈیسک: پرتگال میں اتوار کو ہوئے صدارتی انتخاب کے دوران پولنگ اسٹیشنوں پر ایک دلچسپ منظر دیکھنے کو ملا۔ اپنے والدین کے ساتھ ایک پولنگ اسٹیشن پر پہنچنے والے بچوں کو بھی 'ووٹ' ڈالنے کا موقع دیا گیا، تاہم ان کے بیلٹ پیپر پر اصل امیدواروں کے نام نہیں تھے۔ بچوں کے لیے بنائے گئے خاص بیلٹ پیپر پر ' سپر ماریو' اور' روبلوکس ' جیسے مقبول خیالی کرداروں کے نام تھے۔ والدین نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس مشق سے بچوں کو جمہوریت کے بارے میں سیکھنے کا موقع ملے گا۔ دارالحکومت لزبن کے ایک پولنگ اسٹیشن نے بچوں کے لیے یہ منفرد قدم اٹھایا، تاکہ جمہوریت کا پہلا سبق کتابوں سے نہیں بلکہ تجربے سے سکھایا جا سکے۔
Cosplay de autista.
pic.twitter.com/jP8mLFUSuj
— Hippies con Osde (@HippiesConOsde) February 5, 2026
مانا جا رہا ہے کہ پرتگال میں انتخاب کے دوران پہلی بار ایسا تجربہ کیا گیا اور دنیا کے کسی دوسرے ملک میں ابھی ایسا نہیں کیا گیا ہے۔ بچوں کے لیے بنائے گئے بیلٹ پیپر پر لکھا تھا، اپنے پسندیدہ کردار کو ووٹ دیجیے۔ آٹھ سالہ آرتور کی ماں کیٹرینہ باربوسا نے اسے اپنے بیٹے کے لیے سیکھنے کا اچھا تجربہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، میں اسے ہمیشہ اپنے ساتھ لاتی ہوں تاکہ اسے حوصلہ ملے۔ میں چاہتی ہوں کہ جب وہ 18 سال کا ہو تو گھر پر صوفے پر نہ بیٹھا رہے بلکہ ووٹ ڈالنے ضرور آئے۔ یہ مزے دار ہے کیونکہ اس طرح اسے بھی لگتا ہے کہ وہ ووٹ ڈال رہا ہے اور ایک شہری کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔
The Portuguese voted in a presidential runoff to choose between moderate Socialist António José Seguro and far-right leader André Ventura, with opinion surveys pointing to a landslide victory for Seguro https://t.co/Ioqu92TZBm pic.twitter.com/OhY8Q4RuIN
— Reuters (@Reuters) February 8, 2026
آرتور نے بتایا کہ وہ بیلٹ پیپر پر موجود تمام کرداروں کو پہچانتا ہے۔ نو سالہ جوا ؤ اور 11 سالہ کیرولینا کے والد جواؤ ڈیاس نے بھی بچوں کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا، بچوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کم عمر سے ہی ذمہ داری سمجھنا شروع کریں، تاکہ جب وہ بڑے ہوں تو اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض کو بھی سمجھ سکیں۔