انٹر نیشنل ڈیسک :ہنگری کے انتخابی نتائج نے پوری دنیا کو چونکا دیا ہے۔ گزشتہ 16 برسوں سے وزیرِاعظم کی کرسی پر قابض وِکٹر اوربان کو عوام نے اقتدار سے بے دخل کر دیا ہے۔ ان کی جگہ اب یورپی یونین کے حامی پیٹر میگیار ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ میگیار کی اس جیت کو ‘انتہائی دائیں بازو’ کی سیاست کے خلاف ایک بڑے عوامی مینڈیٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انتخابی اعداد و شمار: میگیار کی تِسزا پارٹی کا جادو۔
اب تک ہونے والی 77 فیصد ووٹوں کی گنتی میں پیٹر میگیار کی ‘تِسزا پارٹی’ کو 53 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ جبکہ اوربان کی حکمران ‘فیدیسز پارٹی’ صرف 38 فیصد ووٹوں تک محدود رہ گئی ہے۔ اوربان نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے جسے ان کے سیاسی کیریئر کا سب سے بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔

وفادار سے مخالف تک کا سفر۔
45 سالہ پیٹر میگیار کبھی وکٹر اوربان کے قریبی اور وفادار ساتھی ہوا کرتے تھے۔ تاہم اس انتخاب میں انہوں نے اوربان کی پالیسیوں کے خلاف محاذ کھول دیا۔ ان کی انتخابی مہم کے اہم نکات یہ تھے۔ انتظامیہ میں پھیلی بدعنوانی کو بنیادی مسئلہ بنایا۔ خستہ حال صحت کے نظام اور عوامی ٹرانسپورٹ میں بہتری کا وعدہ کیا۔ یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ بگڑے تعلقات کو دوبارہ بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا۔

عالمی سیاست پر اثر۔
وکٹر اوربان کو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا قریبی سمجھا جاتا تھا۔ ان کی شکست سے عالمی سطح پر ‘دائیں بازو’ کی تحریک کو کمزور تصور کیا جا رہا ہے۔ یورپی رہنماو¿ں نے میگیار کی جیت کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے جمہوریت کی مضبوطی قرار دیا ہے۔