واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک شرمناک بیان میں امریکہ میں پیدا ہونے والے پوپ لیو چودھویں پر غیر معمولی طور پر تنقید کرتے ہوئے اتوار کی رات کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ پوپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور وہ بہت زیادہ لبرل شخص ہیں اور انہیں انتہا پسند بائیں بازو کو خوش کرنا بند کر دینا چاہیے۔ فلوریڈا سے واشنگٹن واپس آتے وقت ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کر کے امریکی نژاد پہلے پوپ لیو کی سخت تنقید کی اور طیارے سے اترنے کے بعد ہوائی اڈے پر صحافیوں سے بات چیت کے دوران بھی یہ سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے کہا،میں پوپ لیو کا مداح نہیں ہوں۔ٹرمپ نے یہ تبصرہ ایسے وقت میں کیا ہے جب لیو نے ہفتے کے آخر میں اشارہ دیا تھا کہ خود کو سب سے طاقتور سمجھنے کا وہم ایران میں امریکہ اسرائیل جنگ کو ہوا دے رہا ہے۔
پوپ اور صدر کے خیالات میں اختلاف ہونا غیر معمولی نہیں ہے لیکن کسی پوپ کا کسی امریکی رہنما پر براہ راست تنقید کرنا غیر معمولی ہے اور اس کے بعد دیا گیا ٹرمپ کا سخت ردعمل بھی عام نہیں ہے۔ صدر ٹڑمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا،پوپ لیو جرائم کے معاملے میں 'کمزور' ہیں اور خارجہ پالیسی کے لیے بہت خراب ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا، ہمیں ایسا پوپ پسند نہیں ہے جو کہتا ہو کہ جوہری ہتھیار رکھنا ٹھیک ہے۔اس کے بعد ٹرمپ نے ایک تصویر بھی شیئر کی جس میں یہ اشارہ دیا گیا کہ ان کے پاس Jesus Christ جیسی معجزاتی طاقت ہے۔ بائبل کے انداز کا چولا پہنے ٹرمپ بستر پر پڑے Jeffrey Epstein جیسے ایک شخص پر دعا دیتے دکھائی دے رہے ہیں اور ان کی انگلیوں سے روشنی نکلتی نظر آ رہی ہے۔
وہیں ایک فوجی، ایک نرس، دعا کرتی ایک عورت اور بیس بال کی ٹوپی پہنے داڑھی والا ایک شخص انہیں تعریف سے دیکھ رہے ہیں۔ اوپر آسمان میں عقاب، ایک امریکی جھنڈا اور دھندلی شکلیں نظر آ رہی ہیں۔ لیو نے امریکہ یا ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ خدا "جنگ چھیڑنے والوں کی دعائیں نہیں سنتا بلکہ انہیں مسترد کر دیتا ہے۔اس کے بعد ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر لکھا،میں ایسا پوپ نہیں چاہتا جو یہ سمجھتا ہو کہ امریکہ کی طرف سے وینزویلا پر حملہ کرنا بہت بری بات تھی جبکہ وہ ملک امریکہ میں بڑی مقدار میں منشیات بھیج رہا تھا۔ٹرمپ نے کہا، میں ایسا پوپ نہیں چاہتا جو امریکہ کے صدر کی تنقید کرے جبکہ میں وہی کر رہا ہوں جس کے لیے مجھے بھاری اکثریت سے منتخب کیا گیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ لیو کو یہ عہدہ صرف اس لیے ملا کیونکہ وہ امریکی ہیں اور انہوں نے (پوپ کا انتخاب کرنے والوں نے) سوچا کہ صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ سے نمٹنے کا یہ سب سے اچھا طریقہ ہوگا۔ ٹرمپ نے لکھا،اگر میں وائٹ ہاو¿س میں نہ ہوتا تو لیو ویٹیکن میں نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا، لیو کو پوپ کے طور پر اپنے کردار کو بہتر بنانا چاہیے، عام فہم استعمال کرنی چاہیے، انتہا پسند بائیں بازو کو خوش کرنا بند کرنا چاہیے اور ایک عظیم پوپ بننے پر توجہ دینی چاہیے، لیڈر بننے پر نہیں۔ اس سے ان کا بہت نقصان ہو رہا ہے اور اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ اس سے کیتھولک چرچ کا نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے بعد میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران بھی لیو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا، مجھے نہیں لگتا کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ شاید انہیں جرائم پسند ہیں۔ انہوں نے کہا، وہ بہت زیادہ لبرل شخص ہیں۔